مغربی بنگال کے کالنا (کھڑینان) میں ایک 40 سالہ شخص حسن الدین ملا کی خودکشی کے واقعے کے بعد علاقے میں خوف اور سنسنی پھیل گئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، ایس آئی آر عمل کے تحت فہرست سے نام خارج ہونے کے بعد سے ہی وہ مسلسل شدید خوف اور ذہنی تناؤ میں مبتلا تھے۔
بدھ کی دیر رات انہوں نے اپنے گھر میں پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔ اسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
ڈپورٹیشن (ملک بدر کیے جانے) کا خوف: اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر فہرست سے نام نکلنے کے بعد حسن الدین کو یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے ٹریبیونل میں اپیل بھی کی تھی لیکن اب تک کوئی راحت نہیں ملی تھی، جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی صدمے میں تھے اور بردوان میں ان کا علاج بھی چل رہا تھا۔ اس سے قبل بھی وہ خودکشی کی کوشش کر چکے تھے۔
بی ڈی او دفتر کے فون سے بڑھا خوف: خبر کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں قبل بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) کے دفتر سے حسن الدین کو ایک فون آیا تھا۔ جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ تارکین وطن مزدورہیں؟ ان کے پاس کوئی شناختی کارڈ ہے یا ووٹر لسٹ میں ان کا نام درج ہے؟ ان سوالات نے ان کے اندر کا ڈر دوبارہ زندہ کر دیا، جس کے بعد انہوں نے یہ خونی قدم اٹھایا۔
انتظامیہ کا موقف: بلاک انتظامیہ نے جمعرات کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ فون کال کے معاملے اور خوف کی وجہ سے خودکشی کرنے کے الزامات کی مکمل جانچ کی جائے گی تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
الیکشن کمیشن کے رویے پر سوالات: رپورٹس کے مطابق ایس آئی آر کے عمل پر الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے بعض حکام اتنی جلد بازی کے حق میں نہیں تھے، تاہم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی ضداور جلدی کی وجہ سے اس عمل میں کئی خامیوں کے الزامات لگے ہیں جن پر مقدمات چل رہے ہیں۔ اس صورتحال میں حسن الدین کی خودکشی نے انتخابی عمل کی جلد بازی اور اس کے نتائج پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مغربی بنگال کے کالنا (کھڑینان) میں ایک 40 سالہ شخص حسن الدین ملا کی خودکشی کے واقعے کے بعد علاقے میں خوف اور سنسنی پھیل گئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق، ایس آئی آر عمل کے تحت فہرست سے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments