Sports

بنگلہ دیش حکومت نے آئی پی ایل کے نشریہ پر لگائی پابندی، دنیائے کرکٹ میں ہلچل

بنگلہ دیش حکومت نے آئی پی ایل کے نشریہ پر لگائی پابندی، دنیائے کرکٹ میں ہلچل

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے رشتوں میں آئی کشیدگی کے درمیان بنگلہ دیش حکومت نے ایک سخت قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ محمد یونس کی عبوری حکومت نے ملک میں ’انڈین پریمیر لیگ‘ (آئی پی ایل) کے سبھی میچوں کے نشریہ پر فوری اثر سے پابندی لگا دی ہے۔ یہ فیصلہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اور بنگلہ دیشی تیز گیندباز مستفیض الرحمن سے جڑے تنازعہ کے عبد لیا گیا ہے۔ اس فیصلہ نے نہ صرف دنیائے کرکٹ کو حیران کر دیا ہے، بلکہ مستقبل میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ دراصل بی سی سی آئی نے آئی پی ایل 2026 سیزن سے قبل کولکاتا نائٹ رائیڈرس (کے کے آر) کو مستفیض الرحمن کو ریلیز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انھیں کے کے آر کے لیے اہم کھلاڑی مانا جا رہا تھا۔ حالانکہ بغیر کسی صاف وجہ کے ان کو باہر کیے جانے سے بنگلہ دیش میں ناراضگی پھیل گئی۔ وہاں اسے صرف کھیل کا فیصلہ نہیں، بلکہ ملک کے وقار سے جڑا معاملہ تصور کیا گیا۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس موضوع پر مطلع کیا جاتا ہے کہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے ذریعہ ’انڈین پریمیر لیگ‘ (آئی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ، جو 26 مارچ 2026 سے منعقد ہونے والا ہے، کے لیے کولکاتا نائٹ رائیڈرس ٹیم سے بنگلہ دیش کے اسٹار کھلاڑی مستفیض الرحمن کو باہر کیے جانے سے متعلق ایک ہدایت جاری کی گئی ہے۔ بی سی سی آئی کے اس فیصلے کے پیچھے کوئی بھی وجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس فیصلہ سے بنگلہ دیش کی عوام مایوس اور غمزدہ ہے۔ ان حالات میں، اگلے حکم تک آئی پی ایل کے سبھی میچوں اور پروگراموں کے نشریہ کو روکنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ مستفیض الرحمن تنازعہ اب صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں رہا ہے۔ اس کا اثر بین الاقوامی کرکٹ پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو خط لکھ کر گزارش کی ہے کہ 2026 ٹی-20 عالمی کپ میں ہندوستان میں ہونے والے اس کے میچوں کو سری لنکا منتقل کیا جائے۔ بی سی بی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ہندوستان میں کھلاڑیوں کی سیکورٹی اور غیر جانبداری کو لے کر بھروسہ نہیں رہا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش نے واضح کر دیا ہے کہ وہ فروری 2026 میں ہونے والے ٹی-20 عالمی کپ کے لیے اپنی ٹیم ہندوستان نہیں بھیجے گا۔ اگر یہ فیصلہ نافذ ہوتا ہے تو ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ تعلقات میں بڑا شگاف پیدا ہو سکتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments