ڈبلن : آئرش فٹبال کلب کا ڈروگھیڈا یونائیٹڈ اپنی شناخت کے لیے ایک ایسا نشان استعمال کرتا ہے جو مغربی یورپ میں شاذو نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس نشان پر نظر آنے والا ہلال اور ستارہ جس کا تعلق سلطنت عثمانیہ سے جڑی ایک تاریخی حقیقت سے ہے، جس کی تاریخ سے متعلق بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں۔ آئرش قصبے ڈروگھیڈا میں قائم مقامی فٹبال کلب ڈروگھیڈا یونائیٹڈ کا نشان مغربی یورپ میں غیر معمولی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس پر ہلال اور ستارہ نمایاں ہیں۔ آئرلینڈ کی فرسٹ ڈویژن میں کھیلنے والا ڈروگھیڈا یونائیٹڈ ایف سی بظاہر ایک عام سا چھوٹے شہر کا کلب معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے بیج کی بنیاد انیسویں صدی کے ایک غیر معمولی اور دیرپا انسانی اقدام پر ہے وہ اقدام جو عظیم آئرش قحط کے دوران عثمانی سلطنت کی جانب سے بھیجی گئی امداد کی صورت میں سامنے آیا، اس کے نشان کے پیچھے انیسویں صدی کی ایک غیرمعمولی اور تاریخی داستان پوشیدہ ہے۔ ترکی ٹو ڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ یکجہتی کا عمل آئرش کی اجتماعی یادداشت میں گہرا نقش چھوڑ گیا اور اسی نے ترک آئرش علامتی تعلقات کی بنیاد رکھی، جس کی گونج آج بھی سفارتی اور ثقافتی حلقوں میں سنائی دیتی ہے۔ سال 1845 سے 1852 کے درمیان آئرلینڈ بہت بڑے قحط کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ اگرچہ آلو کی فصل پر بیماری نے غذا کے حصول کا بڑا اور بنیادی ذریعہ تباہ کر دیا تھا تاہم اس بڑے پیمانے پر بھوک اور اموات کی اصل وجہ برطانوی نو آبادیاتی نظام تھا۔ آئرلینڈ کی دیگر غذائی پیداوار، اجناس، مویشی اور دودھ کی مصنوعات بدستور انگلینڈ برآمد کی جاتی رہیں۔ قحط کے آغاز پر آئرلینڈ کی آبادی 80 لاکھ سے زائد تھی، مگر اگلی دہائی میں موت اور ہجرت کے باعث آبادی کا تقریباً نصف حصہ ختم ہوگیا۔ اس بحران کی شدت نے عالمی توجہ حاصل کی۔ عثمانی سلطنت کے سلطان عبدالمجید نے آئرلینڈ کے لیے پانچ ہزار پاؤنڈ (تقریباً 6,839 ڈالر) امداد کا اعلان کیا۔ تاہم برطانوی حکام نے اس رقم پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ خود ملکہ وکٹوریہ نے صرف دو ہزار پاؤنڈ عطیہ کیے ہیں۔ بعد ازاں سفارتی دباؤ کے تحت عثمانی امداد کو صرف ایک ہزار پاؤنڈ تک محدود کر دیا گیا، جبکہ اس کے ساتھ علیحدہ طور پر خوراک اور بیجوں کی ترسیل بھی کی گئی۔ مالی امداد تو سرکاری ذرائع سے پہنچ گئی، لیکن عملی امداد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، عثمانی بحریہ نے تین جہاز سامان لے کر ڈبلن روانہ کیے، مگر برطانوی حکام نے انہیں بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہ دی۔ بالآخر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا اور وہ ڈروگھیڈا کی بندرگاہ پر پہنچے، جہاں رات کے اندھیرے میں خاموشی سے سامان اتار لیا گیا۔ غیر رسمی ہدایات تھیں کہ تشہیر سے گریز کیا جائے اور عطیہ دینے والے کی شناخت بھی چھپائی جائے۔ یہ راز زیادہ دیر راز نہ رہ سکا، ایک عثمانی جہاز مقامی لوگوں کی نظروں میں آگیا اور یوں یہ انسانی ہمدردی کا عمل سب کی یادداشت کا حصہ بن گیا۔ عثمانی امداد، اگرچہ آج کے عالمی امدادی معیار کے لحاظ سے محدود تھی، مگر اس کے سیاسی اثرات دہائیوں بعد بھی محسوس کیے گئے۔ سال 1923کی لوزان کانفرنس کے دوران، جہاں ترک جنگِ آزادی کے بعد جدید ترک ریاست کی شرائط طے کی گئیں تو آئرلینڈ واحد یورپی وفد تھا جو مسلسل ترک کے مؤقف کے حق میں کھڑا رہا۔ آئرش نمائندے نے اس حمایت کی وضاحت یوں کی کہ ہم ایسا کرنے کے پابند ہیں بلکہ ہر آئرش شہری ساس بات کا پابند ہے، ہم اس ہاتھ کو نہیں بھولتے جو ہماری مشکل ترین گھڑی میں ہماری مدد کیلیے بڑھا تھا۔ ڈروگھیڈا یونائیٹڈ فٹبال کلب کی بنیاد 1919 میں یعنی پہلی جنگِ عظیم کے اختتام اور آئرلینڈ کی آزادی کی جدوجہد کے پُرآشوب دور میں رکھی گئی۔ جب کلب نے اپنا نشان اختیار کیا تو اس میں ہلال اور ستارہ شامل کیے گئے، جو براہِ راست 1840 کی دہائی میں عثمانی امداد کی یاد دلاتے ہیں، یہ علامت ایک صدی سے زائد عرصے سے برقرار ہے۔ 1975میں کلب کا ایک اور مقامی ٹیم ڈروگھیڈا ایف سی، کے ساتھ انضمام ہوا، مگر نام اور علامتی ورثہ جوں کا توں رکھا گیا۔ آج کلب کے سرخ و نیلے رنگ ترکی کے کلب ترابزون اسپور سے مماثلت رکھتے ہیں، جو 2011 میں باضابطہ طور پر اس کا سسٹر کلب بنا۔ شائقین اکثر ڈروگھیڈا یونائیٹڈ کو “دی ترکـس” کہتے ہیں، یہ لقب یہاں سیاسی نہیں بلکہ فخر کی علامت ہے۔ حالیہ برسوں میں آئرلینڈ اور ترکی کے درمیان یہ تاریخی رشتہ سفارتی سطح پر بھی اجاگر ہوا ہے۔ انقرہ کے دورے کے دوران سابق آئرش صدر میری میک الیس نے اس داستان کا براہِ راست حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ “اگر آپ کبھی ڈروگھیڈا جائیں تو آپ کو لگے گا جیسے ترک قومی ٹیم میدان میں کھیل رہی ہو۔” عثمانی سلطان عبدالمجید کے نام آئرش حکام کا شکریے کا اصل خط آج بھی استنبول کے توپ قاپی محل کے محفوظات میں موجود ہے۔ آج آئرلینڈ کو غزہ میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں فلسطینی حقوق کی سب سے توانا اور مستقل یورپی آوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مؤقف خاص طور پر ان خطوں میں سراہا جا رہا ہے جو کبھی عثمانی دائرۂ اثر میں تھے، مشرقِ وسطیٰ میں بہت سے لوگوں کے نزدیک آئرلینڈ کی یہ اخلاقی جرأت ایک نئی قدر و قیمت کی حامل ہے۔ یہ احساس اس تاریخی یکجہتی کی بازگشت ہے جو تقریباً دو صدی قبل اس وقت جنم لے چکی تھی، جب استنبول سے ڈروگھیڈا تک امداد خاموشی سے رات کی تاریکی میں پہنچی تھی۔
Source: social media
مالی بحران سے دوچار محمڈن اسپورٹنگ کلب’دیدی‘ نہیں تو ’دادا‘ سے مدد لے سکتا ہے؟
پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست، ایشیا کپ 9ویں مرتبہ انڈیا کے نام
ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹی 20 میچ میں نیوزی لینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دے دی
پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارت کو بڑا دھچکا
’’میں ایشیا کپ کی اپنی میچ فیس ہندستانی فوج کودینا چاہتا ہوں‘‘: کپتان سوریا کا بڑا اعلان
ٹی 20 ایشیاء کپ: منگل کو پاکستان اور سری لنکا آمنے سامنے ہونگے
مالی بحران سے دوچار محمڈن اسپورٹنگ کلب’دیدی‘ نہیں تو ’دادا‘ سے مدد لے سکتا ہے؟
پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست، ایشیا کپ 9ویں مرتبہ انڈیا کے نام
ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹی 20 میچ میں نیوزی لینڈ کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دے دی
پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارت کو بڑا دھچکا
’’میں ایشیا کپ کی اپنی میچ فیس ہندستانی فوج کودینا چاہتا ہوں‘‘: کپتان سوریا کا بڑا اعلان
ٹی 20 ایشیاء کپ: منگل کو پاکستان اور سری لنکا آمنے سامنے ہونگے
خاتون ہاکی ایشیا کپ 2025: ہندستان نے تھائی لینڈ کو 0-11 سے شکست دے کر کیا شاندار آغاز، ممتاز خان کی بہترین کارکردگی
گمنام ارب پتی نے اپنی ساری جائیداد معروف فٹ بالر کے نام کردی