Sports

آسٹریلین مسلم کھلاڑی عثمان خواجہ نے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا، مگر ٹیم میں نسلی تعصبیت کا بھانڈا پھوڑدیا

آسٹریلین مسلم کھلاڑی عثمان خواجہ نے کرکٹ کو الوداع کہہ دیا، مگر ٹیم میں نسلی تعصبیت کا بھانڈا پھوڑدیا

آسٹریلیا کے تجربہ کار بلے باز عثمان خواجہ نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، ایس سی جی میں کھیلے جانے والا پانچواں ایشز ٹیسٹ ان کا آخری میچ ہوگا۔ لیکن یہ الوداع وہ نہیں تھا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ 39 سالہ خواجہ نے اپنی آخری پریس کانفرنس کو محض ریٹائرمنٹ تک محدود رکھنے کے بجائے آسٹریلوی کرکٹ میں موجود نسلی تعصبات، دقیانوسی سوچ اور غیر مساوی سلوک پر کھل کر بات کی، جس نے اس لمحے کو کھیل سے آگے ایک بڑے سماجی مباحثے میں بدل دیا۔ عثمان خواجہ کی باتوں کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ وہ کوئی عام کرکٹر نہیں۔ وہ آسٹریلیا کے پہلے مسلم ٹیسٹ کرکٹر ہیں، کئی ایشز سیریز میں ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی رہے، اور جدید آسٹریلوی کرکٹ کی بدلتی شناخت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر نسل، میڈیا کے کردار اور کھیل میں احتساب سے متعلق سوالات کو زندہ کر دیا ہے۔ ایشز کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں، جہاں ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے، گفتگو کا رخ اس وقت بدل گیا جب انہوں نے جاری سیریز کے دوران ہونے والی تنقید کا ذکر کیا۔ خواجہ نے بتایا کہ کمر کی تکلیف کے باعث ایک ٹیسٹ سے باہر ہونے پر ان کی نیت اور کردار پر سوال اٹھائے گئے، جبکہ یہ چوٹ ان کے اختیار سے باہر تھی۔ ان کے مطابق، معاملہ کارکردگی کے تجزیے سے ہٹ کر ذاتی الزامات تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سست، خود غرض اور غیر سنجیدہ جیسے القابات دیے گئے، جو ان کے مطابق وہی نسلی دقیانوسی تصورات ہیں جن کا سامنا انہیں بچپن سے کرنا پڑا۔ خواجہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جب دیگر کھلاڑی اسی طرح کی چوٹوں کے باعث میچز سے باہر ہوئے تو ان کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپنایا گیا، جبکہ ان کے معاملے میں شک اور الزام تراشی دیکھنے کو ملی۔ عثمان خواجہ نے آسٹریلوی کرکٹ میڈیا اور بعض سابق کھلاڑیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تیاری اور طرزِ زندگی پر ہونے والی تنقید ایک حد سے تجاوز کر گئی۔ پرتھ ٹیسٹ سے قبل گالف کھیلنے کے معاملے کو انہوں نے ایک مثال کے طور پر پیش کیا، جہاں ان کی چوٹ کو بدقسمتی کے بجائے ذاتی کوتاہی کے طور پر پیش کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ احتساب کا نہیں بلکہ دوہرے معیار کا ہے۔ خواجہ نے کئی مثالیں دیں جہاں دیگر آسٹریلوی کھلاڑی طویل عرصے تک غیر حاضر رہے، لیکن انہیں اس طرح کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ان کا مشہور جملہ “مجھے گیس لائٹ مت کریں” اس غصے اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو ایک ایسے کھلاڑی کے دل میں تھی، جس کے تجربات کو بار بار نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان میں پیدا ہونے اور آسٹریلیا میں پرورش پانے والے عثمان خواجہ نے ہمیشہ شناخت کے سوال پر بات کی ہے۔ جمعہ کو انہوں نے کھل کر بتایا کہ ظاہری طور پر مختلف ہونا ان کے کرکٹ سفر پر کیسے اثر انداز ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک فخر کرنے والا مسلمان، رنگ دار لڑکا ہیں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل سکے گا۔ یہ جملہ صرف ایک ذاتی بیان نہیں بلکہ ان کے پورے کیریئر کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔ اعداد و شمار کی بات کی جائے تو عثمان خواجہ جدید دور کے آسٹریلیا کے کامیاب ترین ٹیسٹ بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 87 ٹیسٹ میچز میں 6,206 رنز بنائے، اوسط 43.39 رہی، اور 16 سنچریاں اسکور کیں۔ تمام فارمیٹس کو ملا کر ان کے بین الاقوامی رنز کی تعداد 8,000 سے زائد ہے۔ لیکن اب ان کی میراث صرف رنز اور سنچریوں تک محدود نہیں رہی۔ کیریئر کے اختتام پر سچ بول کر عثمان خواجہ نے آسٹریلوی کرکٹ کو ان مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ ان کا یہ موقف طویل عرصے تک کھیل، معاشرے اور میڈیا میں بحث کا موضوع بنا رہے گا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments