سعودی عرب : سعودی عرب میں ایک 78 سالہ بزرگ ک کو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں 24 گھنٹے آکسیجن پر رکھا۔ الحمدللہ، وہ جلد صحت یاب ہوگئے۔
جب ڈاکٹر نے علاج کا بل 2 ہزار سعودی ریال بتایا تو بزرگ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ڈاکٹر نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا، ’’آپ فکر نہ کریں، میں یہ بل ادا کر دوں گا۔‘‘
بزرگ نے جواب دیا، ’’بیٹا! میں بل کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا کچھ عطا کیا ہے کہ میں یہ بل آسانی سے ادا کر سکتا ہوں۔ میں اس لیے رو رہا ہوں کہ آج مجھے احساس ہوا ہے کہ 78 سال سے میں اللہ کی عطا کردہ ہوا میں سانس لے رہا ہوں، ہر لمحہ اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہوں، لیکن اس کے بدلے میں کبھی ایک ریال بھی ادا نہیں کیا۔
اگر صرف 24 گھنٹے آکسیجن لینے کی قیمت 2 ہزار ریال ہے، تو ذرا سوچو کہ زندگی بھر ملنے والی ہوا، پانی، صحت، نیند اور ان تمام نعمتوں کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟‘‘
بزرگ کی یہ باتیں سن کر ڈاکٹر بھی خاموش نہ رہ سکا اور اس کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا:
’’سبحان اللہ! اگر انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حساب لگانے بیٹھ جائے تو پوری زمین اور آسمان بھی ان نعمتوں کا حق ادا کرنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔
سعودی عرب : سعودی عرب میں ایک 78 سالہ بزرگ ک کو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں 24 گھنٹے آکسیجن پر رکھا۔ الحمدللہ، وہ جلد صحت یاب ہوگئے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments