بے ہوشی کی دوا کہاں سے لائی گئی تھی، گرفتار اینستھیٹسٹ نہیں بتا رہے! بچے کی موت کے معاملے میں عدالت میں نئی معلومات
بے ہوشی کی دوا کہاں سے لائی گئی تھی، اس بارے میں بردوان پولیس کو اب تک معلومات نہیں مل سکی ہیں۔ فیموسس کے آپریشن کے بعد چار سالہ ارنئے رائے کی موت کے معاملے میں گرفتار اینستھیٹسٹ کو اب عدالت نے عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار اینستھیٹسٹ بنجکمار دے نے تفتیش کاروں کو یہ نہیں بتایا کہ وہ بے ہوشی کی دوا کہاں سے لائے تھے۔ پولیس حراست کے دوران ان سے کئی مرتبہ پوچھ گچھ کی گئی، لیکن انہوں نے دوا کے ذرائع کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آپریشن کے بعد ارنئے کو ہوش آنے سے پہلے ہی اینستھیٹسٹ نواب ہاٹ موڑ کے نرسنگ ہوم سے چلے گئے تھے۔ تفتیش کار آپریشن کے بعد نگرانی کے دوران ڈاکٹر کے کردار کی جانچ کر رہے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق، نرسنگ ہوم کے آپریشن تھیٹر کے عملے سمیت دیگر ملازمین سے پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ بچے کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دوا ڈاکٹر خود لے کر آئے تھے۔ تفتیش کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دوا کہاں سے اور کس طرح خریدی گئی تھی، لیکن گرفتار اینستھیٹسٹ اس بارے میں معلومات دینے کو تیار نہیں ہیں۔
تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان پہلوو¿ں کی جانچ کی جا رہی ہے کہ آپریشن کے بعد بچے کو ہوش آیا تھا یا نہیں، اس کے اہم جسمانی پیمانے مستحکم تھے یا نہیں اور بے ہوشی کی دوا کا اثر ختم ہونے کے بعد اس کی جسمانی حالت کی مناسب نگرانی کی گئی تھی یا نہیں۔
یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا اینستھیٹسٹ مریض کی حالت کی تصدیق کیے بغیر اور اپنی ذمہ داری مناسب طریقے سے دوسرے طبی عملے کے حوالے کیے بغیر وہاں سے چلے گئے تھے؟ پولیس کے مطابق، اس معاملے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
پولیس حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد جمعہ کو گرفتار اینستھیٹسٹ کو بردوان کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے انہیں دوبارہ اپنی حراست میں لینے کی درخواست نہیں دی، تاہم بتایا کہ تفتیش کے مفاد میں ان سے مزید پوچھ گچھ ضروری ہے۔ دلائل سننے کے بعد قائم مقام چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے اینستھیٹسٹ کو عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ انہیں 21 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 2 ستمبر کو ارنئے کی موت کے معاملے میں نرسنگ ہوم کے دونوں مالکان اور ڈاکٹر سمیت کئی افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ درگا پور کی آر ایف ایس ایل (ریجنل فارینسک سائنس لیبارٹری) سے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے بردوان میڈیکل کالج کے فارینسک بورڈ کے ارکان بھی حتمی رائے نہیں دے سکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ ملنے کے بعد عدالتی حراست میں موجود ملزمین کو دوبارہ پولیس حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
بے ہوشی کی دوا کہاں سے لائی گئی تھی، گرفتار اینستھیٹسٹ نہیں بتا رہے! بچے کی موت کے معاملے میں عدالت میں نئی معلومات...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments