Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران حملوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بک اسٹالوں پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے: سمیک بھٹاچاریہ

Admin
By Admin
Oct 17, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران حملوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بک اسٹالوں پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے: سمیک بھٹاچاریہ
بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران حملوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بک اسٹالوں پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے: سمیک بھٹاچاریہ — October 17, 2026
بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران حملوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بک اسٹالوں پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے: سمیک بھٹاچاریہ
ریاستی بی جے پی کے صدر شمیک بھٹاچاریہ نے الزام لگایا ہے کہ بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران پیش آنے والے تشدد کے واقعات سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹالوں میں توڑ پھوڑ کے معاملے کو بلاوجہ اچھالا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر خاموش رہنے کے لیے سرحد پار کی اداکارہ جیا احسن اور مغربی بنگال کے اداکار پرسن جیت کو بھی نشانہ بنایا۔ شمیک نے کہا، ”میں ان لوگوں کے منہ سے بنگلہ دیش کی صورت حال پر کوئی تنقید نہیں سن رہا ہوں۔“
درگا پوجا کے دوران بائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے بک اسٹال لگانے کے معاملے پر تنازع سب سے پہلے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کھڑا کیا تھا۔ انہوں نے پوجا کمیٹیوں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ بینر پر ’درگا پوجا‘ کے بجائے ’شاردوتسو‘ لکھیں گی تو انہیں اسٹال لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا۔
سی پی ایم نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ کولکاتا میں ہی کم از کم 10 مقامات پر ان کے بک اسٹال توڑ دیے گئے ہیں۔ سی پی ایم کا الزام ہے کہ جمعہ کو پولیس کو اطلاع دینے کے باوجود اینٹالی کے وارڈ نمبر 56 میں بی جے پی نے کتابوں کا اسٹال توڑ دیا۔ پارٹی کے رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، ریاست کے سابق وزیر دیبیش داس بھی زخمی ہوئے ہیں۔ سی پی ایم کے علاوہ ایس یو سی آئی اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کے کتابوں کے اسٹالوں میں بھی توڑ پھوڑ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ایسے ماحول میں شمیک نے اس تنازع کو ایک نیا رخ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران اقلیتوں پر ہونے والے فرقہ وارانہ حملوں پر تشویش ظاہر کرنا زیادہ ضروری ہے یا بائیں بازو کے بک اسٹالوں کا معاملہ اٹھانا؟
اس پر سی پی ایم رہنما سوجن چکرورتی نے جواب دیا، ”بنگلہ دیش میں ہندوو¿ں یا دیگر اقلیتوں پر حملوں کو میں غلط سمجھتا ہوں۔ کسی بھی جگہ اقلیتوں پر حملہ غلط ہے۔ یہ یکساں طور پر قابل مذمت جرم ہے۔“
حال ہی میں بنگلہ دیش کی پوجا ادائیگی کونسل نے الزام لگایا تھا کہ درگا پوجا کے موسم میں ملک کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ حملوں کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ جمعرات کو دارالحکومت ڈھاکہ کے ڈھاکیشوری مندر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں تنظیم کے جنرل سکریٹری سنتوش شرما نے دعویٰ کیا کہ سلہٹ، راج باڑی، پنچ گڑھ، نیتروکونا اور ٹانگائل سمیت مختلف مقامات پر مورتیوں کو نقصان پہنچانے، مندروں پر حملوں اور تشدد کے مجموعی طور پر 34 واقعات پیش آئے ہیں۔ ان معاملات میں درج 11 مقدمات کے سلسلے میں اب تک چند افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
ریاستی بی جے پی کے صدر شمیک نے کہا، ”بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مسلسل ظلم ہو رہا ہے۔ لیکن جیا احسن سمیت کئی ایسے لوگ، جو یہاں آکر کام کر رہے ہیں اور روزی کما رہے ہیں، انہوں نے اس معاملے پر ایک بار بھی زبان نہیں کھولی۔“
شمیک نے مغربی بنگال کی مشہور شخصیات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ”پرسن جیت چٹوپادھیائے بنگالی فلمی دنیا کا اتنا بڑا نام ہیں۔ وہ اور ان جیسے کئی لوگ بنگلہ دیشی اداکاروں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور مختلف تقریبات میں ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ لیکن بنگلہ دیش میں تہوار کے موسم کے دوران اقلیتوں پر مسلسل حملوں کے معاملے میں انہیں کوئی تشویش ہے، ایسا دکھائی نہیں دیتا۔“
مبصرین کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ محمد یونس کی عبوری حکومت کے دور میں بنگلہ دیش کی فرقہ وارانہ صورت حال جتنی سنگین تھی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد اس میں کسی حد تک بہتری آئی ہے۔چند روز قبل ہندو رہنماو¿ں کے ساتھ ایک میٹنگ میں وزیر اعظم طارق رحمان نے کہا تھا، ”مذہب سے قطع نظر ہر شہری کے حقوق کو یقینی بنانا حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے۔ ہر شخص کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کروں گا۔“
درگا پوجا کے موقع پر ہندو مذہبی بہبود ٹرسٹ کو سرکاری خزانے سے دی جانے والی رقم بھی اس سال بڑھا کر پانچ کروڑ ٹکا کر دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک کروڑ ٹکا زیادہ ہے۔ تعطیلات میں بھی ایک دن کا اضافہ کیا گیا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں درگا پوجا کی تقریبات کی تعداد تین کم ہوئی ہے، لیکن پورے ملک میں پوجا کی تقریبات کی تعداد میں ڈیڑھ ہزار کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد 33,851 ہو گئی ہے۔تاہم، ریاستی بی جے پی کے صدر کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کی صورت حال واقعی تشویش ناک ہے اور اسی معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے کچھ لوگ بائیں بازو کی جماعتوں کے کتابوں کے اسٹالوں میں توڑ پھوڑ کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔
بی جے پی مخالف مہم کو تیز کرنے میں سی پی ایم اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنما سرگرم ہیں۔ ریاست کی فلم اور ٹیلی ویڑن دنیا سے تعلق رکھنے والی بائیں بازو کی معروف شخصیات بھی ان کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔ اس شعبے کی دیگر شخصیات، جو بائیں بازو سے وابستہ نہیں سمجھی جاتیں، اب تک کھل کر بی جے پی کی حمایت میں سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس طرح بنگال کی ثقافتی دنیا میں جاری اس تنازع کے دوران بی جے پی خود کو کسی حد تک الگ تھلگ محسوس کر رہی ہے۔
شمیک بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹالوں میں توڑ پھوڑ کے پیچھے بی جے پی کا کوئی کردار تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ سی پی ایم کے اپنے پرانے گناہوں کا نتیجہ ہے۔“
ان کا دعویٰ ہے کہ سی پی ایم کے دور میں تیار کیے گئے غنڈے ترنمول کانگریس کی حکومت آنے کے بعد ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ اب وہ خود کو بڑے ہندوتوا کے علم بردار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ شمیک نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”وہی لوگ اب سی پی ایم پر حملے کر رہے ہیں۔ سی پی ایم اپنے ہی گناہوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔“
تاہم، سوجن چکرورتی نے شمیک کے الزامات کو حقائق کے برعکس قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ”جو لوگ بک اسٹال توڑنے آ رہے ہیں، وہ ’جے شری رام‘ سمیت وہی نعرے لگا رہے ہیں جو شمیک بابو اور ان کے ساتھیوں کو پسند ہیں۔ ان کا انداز دھمکیاں دینے والا ہے، جیسے کہ ’دیکھ لیں گے، دیکھ لیں گے‘ اور ’بائیں بازو کو ختم کرو‘۔ وہ جس طرح آنکھیں دکھا رہے ہیں، اس کا انداز وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنماو¿ں کے رویے سے ملتا جلتا ہے۔ اسی لیے شمیک بھٹاچاریہ بے بسی میں جو کچھ کہہ رہے ہیں، اس کا حقائق سے کوئی میل نہیں ہے۔“

بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران حملوں سے توجہ ہٹانے کے لیے بک اسٹالوں پر ہنگامہ کیا جا رہا ہے: سمیک بھٹاچاریہ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn