فرانس کے وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پیرس کے وسطی علاقے میں پولیس اہلکاروں سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ معجزہ ہے کہ زخمیوں اور دیگر نقصانات کی تعداد اس سے زیادہ نہیں ہوئی۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت کئی شہروں میں ہفتے کے روز پرتشدد واقعات پیش آئے۔ یہ مظاہرے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے خلاف کیے گئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ احتجاج صدارتی انتخابات سے چھ ماہ قبل ہوئے ہیں۔
مظاہروں کے منتظمین نے شرکا کی تعداد آٹھ لاکھ بتائی، جبکہ وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق مظاہروں میں ساڑھے پانچ لاکھ افراد شریک ہوئے۔
وسطی پیرس کے ریپبلک اسکوائر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ پولیس نے سیکڑوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
دارالحکومت کے کئی علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ پولیس نے سیاہ لباس اور ماسک پہنے سیکڑوں مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کی۔ مظاہرین میں سے بعض نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا اور آتش بازی کا سامان پھینکا۔ریلی شروع ہوتے ہی پولیس نے پرتشدد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار کا بھی استعمال کیا۔
فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیل میں مظاہرین نے مختصر وقت کے لیے سٹی ہال میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ شہر کے میئر بنوآ پائیاں نے ان افراد کو ’’شرپسند‘‘ قرار دیا۔میئر نے بعد ازاں اعلان کیا کہ شہر میں پولیس کی اضافی نفری بھیج دی گئی ہے۔
تشدد کی کوئی گنجائش نہیں
پیرس میں مظاہروں پر پابندی والے کئی علاقوں میں اس پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تلاشی کا عمل تیز کردیا گیا۔ حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اجازت کے بغیر نکالی گئی دو ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی۔
وسطی فرانس کے شہر لیموج میں تاریخی اہمیت کی حامل سٹی ہال کی عمارت میں آگ لگ گئی۔ فرانسیسی الپس کے علاقے میں واقع شہر گرینوبل کے وسطی حصے میں ایک عمارت اور لیون میں سیاحتی دفتر کی ایک شاخ بھی آتش زدگی کا نشانہ بنی۔ مارسیل اور لِیل میں دو دیگر سٹی ہالز میں مظاہرین نے زبردستی داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔
مقامی حکام نے بتایا کہ جنوب مغربی شہر بورڈو میں علاقائی گورنر کی رہائش گاہ کو بھی لوٹ لیا گیا۔پیرس میں تقریباً 100 مظاہرین نے قدامت پسند ارب پتی وینسان بولورے کی ملکیت نیوز ٹی وی چینل ’’سی نیوز‘‘ کے دفتر پر حملہ کیا اور عمارت کے سامنے والے حصے پر مختلف اشیا پھینکیں۔
لیون کے ایک مرکزی چوک میں بھی پرتشدد واقعات پیش آئے، جہاں نقاب پوش نوجوانوں کے گروہوں نے پولیس اہلکاروں پر مختلف اشیا اور آتش بازی کا سامان پھینکا۔ پولیس نے جواباً آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار کا استعمال کیا۔
تقریباً 40 افراد نے ایک پل پر ٹریفک روکنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ دیگر مظاہرین نے آئل ریفائنری کے اطراف جمع ہونے کی کوشش کی۔
شمالی فرانس کے شہر لِیل میں مظاہرین سٹی ہال میں داخل ہوگئے اور وہاں موجود سامان کو نقصان پہنچانے کے بعد عمارت سے نکل گئے۔ شہر رین میں ایک تجارتی مرکز کے اطراف کچرے کے ڈبوں اور بڑے تختوں کی مدد سے رکاوٹ کھڑی کردی گئی۔
ان واقعات پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا:تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم افراتفری پھیلانے والوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں گے۔ ان کا مقصد صرف ہمارے اداروں کو تباہ کرنا اور ان لوگوں کو پُرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کرنے سے روکنا ہے جو ایسا کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا کہ پولیس کو ’’انتہائی شدید تشدد‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
فرانس کے وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے کے روز ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments