Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

عراقچی کا ٹرمپ پر وار: اقتصادی جنگ امریکہ کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ

عراقچی کا ٹرمپ پر وار: اقتصادی جنگ امریکہ کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کا حربہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کرنے کی دھمکی دی گئی اقتصادی جنگ دراصل اپنے ملک کے معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مزید دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی۔

ٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ’’کسی بھی ملک کے خلاف شروع کی جانے والی سب سے طاقتور اور تباہ کن اقتصادی کارروائی‘‘ شروع کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنا ہے۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ نام نہاد ’’اقتصادی فتح کا دن‘‘ دراصل خود امریکہ کے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جہاں بے مثال قرضے اور شرحِ سود کے بڑھتے ہوئے اخراجات جیسے مسائل موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ناکام پالیسیوں پر اڑے رہنے سے صرف مزید شکست اور ایرانی عوام کی جانب سے مزید دشمنی حاصل ہوگی۔

اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تنازع خلیجی خطے کے کئی ممالک تک پھیل چکا ہے۔جنگ کے نتیجے میں عالمی منڈیوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

جنگ شروع ہونے سے قبل، فروری کے اواخر میں، دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل تجارت اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

امریکہ اور ایران نے اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ ان معاہدوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا اور تنازع کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے، حالانکہ اسرائیل بڑی حد تک جنگ سے پیچھے ہٹ چکا تھا۔

ٹرمپ ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ضبط کرنا چاہتے ہیں اور ایک نئے معاہدے کے خواہاں ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ یہ معاہدہ 2018 میں امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر ترک کیے گئے جوہری معاہدے کی جگہ لے گا۔

دوسری جانب ایران، جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے، کئی دہائیوں سے مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

{{ currentVoteCount }} Responses
{{ voteMessage }}
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn