لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے ہفتہ کے روز سماجوادی پارٹی (سپا) کے صدر اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر اور مرکزی وزیر جینت چودھری کے بارے میں ان کے مبینہ غیر مہذب تبصرے پر انہیں پورے جاٹ سماج سے معافی مانگنی چاہیے۔ اس معاملے میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے بھی اکھلیش یادو پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مرکزی وزیر جینت چودھری سے فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔
مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اکھلیش یادو کا اپنے سابق اتحادی کے بارے میں عوامی طور پر یہ کہنا کہ ’’ہم نے ان کو چونی سے روپیہ بنا دیا‘‘ انتہائی غیر مہذب، نامناسب اور شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو کو آر ایل ڈی اور اس کے رہنما کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کے خاندان کی توہین کرنے پر پورے جاٹ سماج سے معافی مانگنی چاہیے۔ مایاوتی نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی کا چال، کردار اور چہرہ صرف مخالف جماعتوں ہی نہیں بلکہ اپنی اتحادی جماعتوں کے تئیں بھی تنگ نظری اور ذات پات کی سیاست پر مبنی رہا ہے۔
ان کے مطابق اس کا سیاسی فائدہ اکثر بی جے پی کو ملا اور سیکولر طاقتیں کمزور ہوئیں۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے اسی رویے کی وجہ سے 1993 میں قائم ہونے والا سپا-بی ایس پی اتحاد ٹوٹ گیا اور 2 جون 1995 کو بدنام زمانہ لکھنؤ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس واقعہ پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے اکھلیش یادو کی یقین دہانی پر بی ایس پی نے ایک مرتبہ پھر سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا، لیکن انتخابی نتائج توقع کے مطابق نہ آنے کے بعد سپا کے مبینہ متکبرانہ اور مفاد پرستانہ رویے کی وجہ سے یہ اتحاد بھی ٹوٹ گیا۔ مایاوتی نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی اتحاد کا استعمال صرف اپنا کام نکالنے کے لیے کرتی ہے اور مقصد پورا ہونے کے بعد دوسری جماعتوں کے خلاف غیر مناسب زبان استعمال کرتی ہے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی کے پی ڈی اے (پسماندہ، دلت اور اقلیت) فارمولے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اکھلیش یادو سیاسی مفاد کے مطابق پی ڈی اے میں ’پی‘ کا مطلب کبھی پسماندہ طبقہ اور کبھی پنڈتوں کے مفاد سے جوڑتے ہیں۔
مایاوتی نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی اپنی ذات کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور خاص طور پر برہمن سماج کی حقیقی خیر خواہ نہیں رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپا حکومتوں میں دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور اعلیٰ ذات کے لوگوں، خاص طور پر برہمنوں کا استحصال ہوا اور ان کے لیے مثبت اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومتوں میں غنڈوں، جرائم پیشہ افراد، مافیا اور انتشار پسند عناصر کو فائدہ پہنچا، جبکہ خواتین کی سلامتی کی صورتحال بھی خراب رہی۔
مایاوتی نے تمام طبقات کے لوگوں سے اپیل کی کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کو اقتدار میں واپس آنے سے روکا جائے۔ چند روز قبل اکھلیش یادو نے کسی کا نام لیے بغیر طنز کیا تھا کہ اتحاد میں نہ جانے کہاں کہاں سے لوگ آئے تھے، جنہیں انہوں نے ’’چونی سے روپیہ بنا دیا‘‘، لیکن اس کے باوجود وہ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے والی کئی جماعتیں بعد میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا حصہ بن گئیں، جن میں سب سے نمایاں راشٹریہ لوک دل ہے۔ آر ایل ڈی کے سربراہ اور مرکزی وزیر جینت سنگھ چودھری نے دیر رات ایکس پر پوسٹ کرکے، بغیر نام لیے، اکھلیش یادو کے بیان کا جواب دیا۔
انہوں نے کہا، ’’سیاست کی لڑائی میں اگر کچھ سستے الفاظ بولنے ہی تھے تو میرا نام لے کر بول دیتے، کوئی بات نہیں تھی…۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’جاٹ سماج کو نشانہ بنانا اور یہ کہنا کہ اے بی سی ڈی ہم نے سکھائی؟ میں اس غرور کو قریب سے دیکھ چکا ہوں اور میرا ماننا ہے کہ ایسا رویہ صرف زوال کی طرف لے جاتا ہے۔‘‘ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے بھی ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’نیتا جی (ملائم سنگھ یادو) کی کمائی، سپا بہادر نے گنوا دی۔ یہ سولہ آنے سچ ہے۔ لیکن اس بے چینی نے سپا بہادر اکھلیش یادو کا حوصلہ اس قدر توڑ دیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اعلیٰ ذات، پسماندہ اور دلت، کسی کو بھی نہیں چھوڑتے۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ اب مرکزی وزیر جینت چودھری کے خلاف مبینہ گھٹیا بیان دے کر اکھلیش یادو نے اپنی اسی بے چینی کو ظاہر کر دیا ہے، جبکہ ’’بھارت رتن چودھری چرن سنگھ کا سیفئی خاندان پر اتنا احسان ہے کہ سپا بہادر اسے چکا نہیں سکتے۔‘‘ موریہ نے کہا کہ اکھلیش یادو کو جینت چودھری سے فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اکھلیش یادو کی بے چینی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اعلیٰ ذات، پسماندہ اور دلتوں کی ’’تریوینی‘‘ بی جے پی کے ساتھ ہے۔ موریہ نے کہا کہ اتر پردیش کے عوام 2027 میں ذات پرستی اور مسلم خوشامد کی سیاست میں ڈوبی سماجوادی پارٹی کا بوریا بستر سمیٹ کر اسے سیفئی بھیج دیں گے۔ اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اس تنازع نے ریاست کی سیاست کا درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments