نندی گرام میں ریکارڈ بنے گا“، ووٹ ڈال کر بولے وزیر اعلیٰ شوبھندو، ریزینگر میں ہمایوں گرفتار
صبح سے ہی ریاست کی دو اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے دوران مختلف مقامات سے کشیدگی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ نندی گرام میں کانگریس امیدوار ملن پردھان نے الزام عائد کیا کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو بوتھ پر بیٹھنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اسی معاملے پر بی جے پی کے رہنماو¿ں اور کارکنوں کے ساتھ ان کی تلخ کلامی بھی ہوئی۔ بی جے پی امیدوار ہاسیرانی رتھ نے بتایا کہ ووٹنگ پ±رامن طریقے سے ہو رہی ہے۔ دوسری جانب ووٹنگ شروع ہوتے ہی ریزینگر میں پولیس کے ساتھ بحث میں الجھنے کے بعد عام جنتا وکاس پارٹی کے سربراہ ہمایوں کبیر کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے ضمنی انتخاب کی صورت حال کا موازنہ ایمرجنسی کے دور سے کیا۔
ریزینگر میں متعدد بوتھوں سے ایجنٹوں کو باہر نکالنے کا الزام کانگریس نے بھی لگایا ہے۔ پارٹی نے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوپہر کے وقت ممتا ترنمول کانگریس کے امیدوار ربیع الاسلام چودھری بھی نظر آئے۔ انہوں نے بھی یہی الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا، ”ہم نے ہر بوتھ پر ایجنٹ مقرر کیے تھے۔ 315 بوتھوں میں اس وقت صرف 25 سے 30 ایجنٹ موجود ہیں۔ باقی سب کو بھگا دیا گیا ہے۔“
گرفتاری سے قبل نودہ کے رکن اسمبلی ہمایوں نے ریاستی پولیس اور وزیر اعلیٰ کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا، ”اس طرح ووٹ کرانے کی ضرورت ہی کیا تھی! ان لوگوں کے پاس تو بہت اختیار ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے کہہ کر نوٹیفکیشن جاری کروایا تھا۔ ودڈرال کی تاریخ کے بعد ہی سرٹیفکیٹ جاری کر دیتے۔“
نندی گرام سے کانگریس کی جانب سے امیدوار بنائے جانے کے بعد ملن کو 17 سال پرانے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فی الحال وہ ضمانت پر ہیں۔ انہوں نے صبح سویرے اپنی اہلیہ کے ساتھ بوتھ نمبر 280 پر ووٹ ڈالا۔ مختلف پولنگ مراکز کا دورہ کرتے ہوئے سوناچوڑہ پہنچنے پر ملن نے الزام لگایا کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو بیٹھنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ شکایت سنتے ہی بی جے پی کے رہنما اور کارکن دوڑتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کانگریس کا کوئی حامی ہی نہیں ہے، تو کوئی وہاں کیسے بیٹھے گا۔ بی جے پی کے ایک کارکن نے ملن پر طنز کرتے ہوئے کہا، ”آپ کے پاس کھلاڑی ہی نہیں ہے تو کھیلیں گے کیسے؟“
کانگریس امیدوار نے جواب دیا، ”شروع میں کسی کے پاس کھلاڑی نہیں ہوتے، بعد میں آتے ہیں۔“ کافی دیر تک دونوں جانب سے بحث و تکرار ہوتی رہی، جس کے بعد ملن سوناچوڑہ سے چلے گئے۔
نندی گرام کی بی جے پی امیدوار ہاسیرانی نے ووٹنگ کے دن کی شروعات ریائے پاڑہ کے شیو مندر میں پوجا کر کے کی۔ انہوں نے پ±رسکون انداز میں کہا، ”ووٹ اچھا ہو رہا ہے۔ اب میں نکلوں گی۔“ اپوزیشن کے الزامات پر انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پولیس نے بتایا کہ شکایت ملتے ہی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ”احتیاطی حراست“ بھی کی جائے گی۔
دوپہر میں وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نندی گرام میں ووٹ ڈالنے پہنچے۔ نندنائیک باڑ کے بوتھ پر ووٹ ڈالنے کے بعد مختصر پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا، ”نندی گرام میں اب تک 50 فیصد ووٹنگ ہو چکی ہے۔ ضمنی انتخابات میں عام طور پر ووٹنگ کم ہوتی ہے۔ امید ہے کہ اس بار 85 فیصد تک ووٹنگ ہوگی۔ 2016 میں میں 82 ہزار ووٹوں سے جیتا تھا۔ امید ہے کہ اس بار وہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔“
دوسری جانب ریزینگر میں ووٹنگ شروع ہوتے ہی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ ہمایوں کی خالی کردہ نشست پر عام جنتا وکاس پارٹی کے امیدوار ان کے بیٹے گلاب نبی آزاد ہیں۔ لیکن ہمایوں نے صبح ہی سے پولیس اور بی جے پی کو ایک ہی صف میں رکھتے ہوئے حملہ شروع کر دیا۔ الزام لگایا گیا کہ پورے ریزینگر میں ووٹ لوٹے جا رہے ہیں۔ پارٹی دفتر کے سامنے بھی ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
اس دوران ریزینگر سے کئی دیگر شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچنے والوں کی انگلی پر سیاہی لگا کر انہیں واپس گھر بھیجا جا رہا ہے اور اس میں بی جے پی ملوث ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پولیس کو اطلاع دینے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولنگ بوتھوں سے ایجنٹوں کو باہر نکالا جا رہا ہے۔
سی پی ایم نے الزام لگایا کہ ریزینگر کے 112، 113، 114 اور 122 نمبر بوتھ، دادپور علاقے کے مرادیگھی میں پولیس ہی پولنگ ایجنٹوں کو داخل ہونے نہیں دے رہی ہے۔ ریزینگر تھانے کے سامنے کانگریس امیدوار عبداللہیل کافی نے دھرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے ضمنی انتخاب منسوخ کرکے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ صبح 11 بجے تک ریزینگر میں 38.71 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔
ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ نے صرف ہمایوں کی گرفتاری پر ردعمل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمایوں نہ تو امیدوار ہیں اور نہ ہی ایجنٹ۔ اس لیے وہ اس طرح گھوم نہیں سکتے۔ قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔
ہمایوں کی گرفتاری پر ریزینگر کے بی جے پی امیدوار شاخارَو سرکار نے کہا، ”کچھ دن پہلے ہی انہوں نے کہا تھا کہ ووٹنگ کے دن 10 لاشیں گریں گی۔ وہ فساد کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پولیس کو گالیاں دی ہیں۔ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اور کیا!“
ہمایوں کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہا، ”نودہ کے رکن اسمبلی گرفتار ہوئے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔“
ریزینگر اسمبلی ضمنی انتخاب میں ووٹ لوٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ادھیر چودھری نے احتجاج کیا اور ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مارچ نکالا۔
نندی گرام میں ریکارڈ بنے گا“، ووٹ ڈال کر بولے وزیر اعلیٰ شوبھندو، ریزینگر میں ہمایوں گرفتار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments