Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

درگا پوجا کے دوران شمالی بنگال میڈیکل کالج میں 127 مریضوں کی موت

Admin
By Admin
Oct 23, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

درگا پوجا کے دوران شمالی بنگال میڈیکل کالج میں 127 مریضوں کی موت
درگا پوجا کے دوران شمالی بنگال میڈیکل کالج میں 127 مریضوں کی موت — October 23, 2026
درگا پوجا کے دوران شمالی بنگال میڈیکل کالج میں 127 مریضوں کی موت
تہوار کے موسم میں شمالی بنگال میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں 127 مریضوں کی موت ہوئی ہے۔ تاہم، اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی غیر معمولی یا خوفناک بات نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نجی نرسنگ ہومز میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث بڑی تعداد میں مریضوں کو آخری مرحلے میں یہاں بھیج دیا جاتا ہے، جن میں سے کئی کی موت ہو گئی۔ یہ اموات 16 اکتوبر سے 21 اکتوبر کے درمیان ہوئیں۔ اسپتال کے ذرائع کے مطابق، مرنے والوں میں سے آٹھ مریضوں کی موت داخلے سے پہلے ہی ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں ہو گئی تھی۔

گزشتہ سال درگا پوجا کے پانچ دنوں کے دوران اس اسپتال میں 77 مریضوں کی موت ہوئی تھی۔ اس سال اموات کی تعداد بڑھنے کے بعد پوجا کے دنوں میں ڈاکٹروں، خصوصاً سینئر ڈاکٹروں کی اسپتال میں موجودگی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ پوجا کی تعطیلات کے دوران طبی خدمات جاری رکھنے کے لیے پہلے ہی ڈیوٹی کا شیڈول تیار کیا گیا تھا۔ تاہم، سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا اس شیڈول کے مطابق کافی تعداد میں سینئر ڈاکٹر اسپتال میں موجود تھے یا نہیں۔

جونیئر ڈاکٹروں کی شکایات نے ان سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔ الزام ہے کہ پوجا کی تعطیلات سے پہلے ہی انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ مقررہ شیڈول کے مطابق کام کرنا ہوگا اور کسی بھی صورت میں ڈیوٹی کا تبادلہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، سینئر ڈاکٹروں کے معاملے میں اس طرح کی سختی کس حد تک نافذ کی گئی، اس پر شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب، اسپتال کے ذرائع کے مطابق، پوجا کے چھ دنوں کے دوران شمالی بنگال کے مختلف اسپتالوں اور نرسنگ ہومز سے ریفر ہو کر آنے والے مریضوں کی تعداد بھی کافی زیادہ تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کی موت کے معاملے میں اسپتال انتظامیہ نے علاج میں غفلت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کوشک ایشور نے کہا، ”یہ کہنا درست نہیں ہے کہ علاج میں غفلت برتی گئی یا مریضوں کی اموات غیر معمولی تھیں۔ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے بعد ہم نے دیکھا کہ مرنے والے زیادہ تر مریض آس پاس کے مختلف اسپتالوں اور نرسنگ ہومز سے ریفر ہو کر یہاں آئے تھے۔“

قابلِ ذکر ہے کہ پوجا کے دوران متعلقہ اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں ڈاکٹروں کی موجودگی کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث متعدد مریضوں کو شمالی بنگال میڈیکل کالج بھیجا گیا تھا۔ شعب? طب میں اموات کی تعداد نسبتاً زیادہ رہی۔ گردے اور جگر کی سنگین بیماریوں کے علاوہ فالج سے متاثرہ مریضوں کو بھی ریفر کرکے یہاں لایا گیا تھا۔ ان میں سے کئی مریضوں کی موت ہو گئی۔ سپرنٹنڈنٹ کا دعویٰ ہے کہ بعض معاملات میں متعلقہ نرسنگ ہوم میں ہی علاج جاری رکھنے کی گنجائش موجود تھی، لیکن اس کے باوجود مریضوں کو میڈیکل کالج بھیج دیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ کا مزید دعویٰ ہے کہ پوجا کے دنوں میں سڑک حادثات کی تعداد نسبتاً کم رہی۔ ان کے مطابق، مختلف مقامات سے شدید بیمار مریضوں کو ریفر کرکے بھیجا جانا اموات کی تعداد میں اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔

تاہم، سپرنٹنڈنٹ نے پوجا کے دوران ڈاکٹروں کی موجودگی اور طبی خدمات کے بارے میں اٹھنے والے الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، ”ہم سب نے مل کر پوجا کے دنوں میں اسپتال میں کام کیا۔ علاج کی کمی یا انتظامی نظام میں کوئی خامی نہیں تھی۔“

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مریضوں کو تہوار کی خوشیوں کا کچھ احساس دلانے کے لیے درگا پوجا کی اشٹمی کے دن کھچڑی، کھیر، چٹنی اور پاپڑ کا انتظام کیا گیا تھا، جبکہ دشمی کے دن چاول، مرغی کا گوشت اور چٹنی پیش کی گئی تھی۔

درگا پوجا کے دوران شمالی بنگال میڈیکل کالج میں 127 مریضوں کی موت...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn