میڈیکل کونسل میں انصاف کب ملے گا؟“ سوال اٹھاتے ہوئے متاثرہ نوجوان روپڑا
ریاستی میڈیکل کونسل کے سامنے 36 سالہ نوجوان راکیش مائتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔ وہ انصاف چاہتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے ریاستی میڈیکل کونسل کے چکر لگانے کے باوجود انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ان کے اندر جو بے بسی پیدا ہوئی ہے، اسی کے باعث وہ رونے لگے۔
راکیش کا الزام ہے کہ ایک ڈاکٹر کے غلط علاج کی وجہ سے انہوں نے چلنے پھرنے کی صلاحیت کھو دی تھی اور تقریباً بستر تک محدود ہو گئے تھے۔ ’ہِپ جوائنٹ کی تبدیلی‘ کے بعد بھی وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکے۔ ان کا سوال ہے—کیا ان کی اس حالت کے لیے مذکورہ ڈاکٹر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی؟ ایک سال سے زیادہ عرصے سے راکیش اسی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔
راکیش اکیلے نہیں ہیں۔ گزشتہ مئی سے ریاستی میڈیکل کونسل سے انصاف کی امید رکھنے والے لوگوں کی فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے۔ اس فہرست میں تازہ ترین اضافہ مشرقی بردوان کے منتیشور کے رہنے والے چار سالہ ارنیہ رائے کے والدین کا ہوا ہے۔ الزام ہے کہ ایک ’جعلی‘ ڈاکٹر کے ہاتھوں علاج کے بعد گزشتہ 2 ستمبر کو چار سالہ بچے کی موت ہو گئی۔
تقریباً دو ہفتے قبل، 25 ستمبر کو راکیش ریاستی میڈیکل کونسل گئے تھے۔ اس کے ٹھیک چار دن بعد کونسل کے سالٹ لیک دفتر میں ارنیہ کے والد جینت رائے اور والدہ شِلپی رائے پہنچے۔ ارنیہ کے والدین پہلے ریاستی میڈیکل کونسل سے ودھان نگر ساو¿تھ تھانے اور اس کے بعد محکمہ? صحت کے دفتر گئے۔ صحت کے وزیر شاردوت مکھوپادھیائے سے ملاقات کرکے حال ہی میں اپنے بچے سے محروم ہونے والے اس جوڑے نے بھی راکیش کی طرح انصاف کا مطالبہ کیا۔
میڈیکل کونسل میں انصاف کب ملے گا؟“ سوال اٹھاتے ہوئے متاثرہ نوجوان روپڑا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments