مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں 'برقہ' کے داخلی راستے پر اسرائیلی آبادکاروں نے ایک استقبالیہ بورڈ جلا دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اکتوبر کے مہینے میں فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
فلسطین نیوز ایجنسی کے مطابق برقہ کونسل کے سربراہ سائل کنعان نے بتایا کہ منگل کے روز آبادکاروں نے اس یادگاری نشان پر ٹائر رکھ کر آگ لگا دی جس سے اسے شدید نقصان پہنچا۔ بعد ازاں مقامی رہائشیوں نے آگ پر قابو پا لیا۔
مغربی کنارے میں بعض فلسطینیوں نے اپنے دیہات کے داخلی راستوں پر خیرمقدمی (استقبالیہ) بورڈز کے ساتھ یادگاریں تعمیر کی ہوئی ہیں۔ کنعان نے بتایا کہ یہ حملہ زیتون کی کٹائی کے موسم کے دوران ہوا۔
آبادکاروں نے برقہ کے ان کسانوں پر بھی حملہ کیا جو اپنے زیتون کے درختوں کی نگہداشت یا کاشت کے لیے گئے تھے۔ اس دوران ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے میں ایک 47 سالہ شخص کے سر پر چوٹیں آئیں۔
فلسطینی وزارتِ زراعت نے گذشتہ ہفتے بتایا کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیلی پالیسیوں اور آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات کی وجہ سے مغربی کنارے میں زیتون کے 98,000 سے زائد درختوں کو نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں کسانوں کو 66 ملین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں 'برقہ' کے داخلی راستے پر اسرائیلی آبادکاروں نے ایک استقبالیہ بورڈ جلا دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اکتوبر کے مہینے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments