امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ آف 2026‘ پر دستخط کر کے اسے قانون بنا دیا ہے۔ اس قانون کے تحت روس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ساتھ ہی روس سے تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر بھی بھاری ٹیرف یعنی درآمدی محصولات عائد کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ ان ممالک میں چین اور ہندوستان بھی شامل ہیں۔ امریکہ فی الحال ہندستان پر 18 فیصد اور چین پر 34 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے۔
اس قانون کے تحت ایران کے خلاف عائد موجودہ امریکی پابندیوں میں توسیع کی گئی ہے، جبکہ روس کے خلاف پابندیوں، محصولات اور دیگر پابندیوں کا دائرہ بھی بڑھایا گیا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان نے رواں ہفتے کے آغاز میں پابندیوں کے اس بل کی منظوری دی تھی۔
قانون میں روسی حکام، مالیاتی اداروں اور دیگر اداروں پر پابندیاں، جبکہ روس کے توانائی اور تجارتی شعبوں سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر کو روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے درآمد کنندگان پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
قرارداد کے تحت سنہ 1996 کے ایران سینکشنز ایکٹ میں بھی پانچ سال کی توسیع کی گئی ہے اور تہران پر پابندیاں عائد کرنے کا امریکی اختیار برقرار رکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت روس پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ ایران پر عائد پابندیوں میں توسیع کی گئی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments