بچے کی موت کے مقدمے میں مشرقی بردوان کے نرسنگ ہوم کے دو مالکان گرفتار
بچے کی موت کے معاملے میں اب مشرقی بردوان کے اسی نرسنگ ہوم کے دو مالکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چار سالہ بچے کی آپریشن کے دوران مبینہ لاپروائی کے باعث موت کے مقدمے میں شیخ س±رَج احمد اور انیسور منڈل کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں مقامی رہنے والے ہیں، تاہم دونوں کو کولکاتا سے گرفتار کیا گیا۔ اتوار کو گرفتار افراد کو بردوان کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) عدالت میں پیش کیا گیا۔ تاہم مقدمے کی اصل دستاویزات موجود نہ ہونے کے باعث پولیس حراست کی درخواست پر سماعت مو¿خر رکھنے کی ہدایت قائم مقام سی جے ایم نے دی۔
عدالت کے ایک ذریعے کے مطابق مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے ضلع جج کی عدالت میں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے مقدمے کی اصل دستاویزات سی جے ایم عدالت میں پیش نہیں کی جا سکیں۔ قائم مقام سی جے ایم نے گرفتار افراد کو عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ انہیں پیر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
گزشتہ 2 ستمبر کو مشرقی بردوان کے نوا بَہٹ موڑ علاقے کے ایک نرسنگ ہوم میں چار سالہ بچے کو آپریشن کے لیے داخل کرایا گیا تھا۔ آپریشن کے بعد بچے کی موت ہوگئی۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر اور نرسنگ ہوم انتظامیہ کی لاپروائی کے باعث بچے کی موت ہوئی۔ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی۔ ضلع کے چیف میڈیکل آفیسر کے پاس بھی شکایت جمع کرائی گئی۔ اسی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ گزشتہ 11 ستمبر کو پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا تھا۔اسی دوران تفتیش کاروں نے آپریشن کرنے والے ڈاکٹر شیخ سعید±ل حق کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں، جبکہ ان کی طبی ڈگری کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
بچے کی موت کے مقدمے میں مشرقی بردوان کے نرسنگ ہوم کے دو مالکان گرفتار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments