ایس آئی آر میں نام خارج ہونے والے عازمینِ حج کی درخواستوں کی جلد سماعت کریں! ہائی کورٹ کی ٹریبونل کو ہدایت
ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نام خارج ہونے والے عازمینِ حج کی درخواستوں کی جلد سماعت کی جائے۔ پیر کو کلکتہ ہائی کورٹ نے ٹریبونل کو یہی ہدایت دی۔ جسٹس کرشنا راو¿ نے ٹریبونل کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ممکن ہو تو ان عازمینِ حج کی درخواستوں پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران جن افراد کے نام زیرِ غور فہرست میں تھے، ان کے معاملات کے تصفیے کے لیے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایس آئی آر اپیل ٹریبونل تشکیل دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ ٹریبونل قائم کیے گئے تھے۔ تاہم ٹریبونل میں کام انتہائی سست رفتاری سے ہونے کی شکایات پہلے بھی بارہا سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں بعض عازمینِ حج نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
مقدمہ دائر کرنے والے عازمینِ حج کا دعویٰ ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں پاسپورٹ اور حج کے لیے ویزا حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے انہوں نے ٹریبونل میں درخواستیں بھی دی ہیں۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ ٹریبونل کی جانب سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں بتایا گیا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ ٹریبونل میں درخواستیں جمع کرائی تھیں، لیکن وہاں سماعت نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ان کا حج کا سفر غیر یقینی ہوگیا ہے۔
ایسی صورتحال میں پیر کو جب مقدمہ سماعت کے لیے آیا تو جسٹس کرشنا راو¿ نے ٹریبونل سے کہا کہ ان عازمینِ حج کی درخواستوں کی جلد سماعت کی جائے۔ جج نے کہا کہ ٹریبونل عازمینِ حج کی درخواستوں کو جلد نمٹاتے ہوئے اپنا فیصلہ سنائے۔ جسٹس کرشنا راو¿ نے یہ بھی کہا کہ اگر ممکن ہو تو ٹریبونل کو اس معاملے میں دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے یا خارج کرنے کے لیے ٹریبونل میں کتنی درخواستیں جمع ہوئی ہیں اور ان میں سے کتنی درخواستوں کا تصفیہ کیا گیا ہے، اس بارے میں الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے ہی سپریم کورٹ میں معلومات پیش کی تھیں۔ کمیشن نے یہ تفصیلات بھی دی تھیں کہ کس ضلع میں کتنی درخواستوں کا تصفیہ ہوا ہے۔
کمیشن کے مطابق 10 ستمبر تک ٹریبونل میں مجموعی طور پر 38 لاکھ 31 ہزار 429 درخواستیں جمع ہوئی تھیں۔ ان میں سے 10 ستمبر تک صرف ایک لاکھ 26 ہزار 194 درخواستوں کا تصفیہ کیا گیا۔ جبکہ 37 لاکھ 5 ہزار 235 درخواستیں زیرِ التوا ہیں۔ اگر درخواستوں کے تصفیے کا یہی رفتار برقرار رہی تو ریاست میں یہ کام مکمل ہونے میں 12 سال سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
ایس آئی آر میں نام خارج ہونے والے عازمینِ حج کی درخواستوں کی جلد سماعت کریں! ہائی کورٹ کی ٹریبونل کو ہدایت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments