سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت، ٹی ایم سی کے دھڑوں کے درمیان پارٹی نام اور انتخابی نشان کا تنازع تین ماہ میں طے کریں
سپریم کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ ترنمول کانگریس کے حریف دھڑوں کے درمیان پارٹی کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازع کو تین ماہ کے اندر طے کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ تین ماہ کی مدت چار ہفتے بعد شروع ہوگی۔ اس سے پہلے دونوں فریقوں کو چار ہفتوں کے اندر تمام ضروری جوابات اور شواہد جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے دونوں حریف دھڑوں کو ہدایت دی کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے جاری کارروائی میں چار ہفتوں کے اندر اپنے تمام دعوے اور جوابات مکمل کرلیں۔
بینچ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنی دستاویزات اور جوابات مکمل کرنے کے بعد تین ماہ کے اندر اس معاملے پر فیصلہ کیا جائے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے تنازع کا فیصلہ کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دینے کی درخواست کی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔
جسٹس باگچی نے کہا، ”تین ماہ کافی ہیں۔“ ’بار اینڈ بینچ‘ کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا، ”یہ بہت مشکل ہے۔“
اس پر عدالت نے جواب دیا، ”اگر کوئی غیر معمولی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ہمارے سامنے آئیے۔“
سپریم کورٹ نے یہ حکم مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت ٹی ایم سی کے نام اور انتخابی نشان کو منجمد کر دیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے بنرجی کے دھڑے کو ”ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس“ کا نام دیا ہے اور اسے ”فٹ بال پلیئر“ کا انتخابی نشان الاٹ کیا ہے۔ مخالف دھڑے کو ”ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس“ کے نام سے تسلیم کیا گیا ہے اور اسے ”لفافہ“ انتخابی نشان دیا گیا ہے۔ یہ انتظامات آئندہ ضمنی انتخابات، جن میں بنگال کے نندی گرام اور ریجینگر کے ضمنی انتخابات بھی شامل ہیں، کے لیے نافذ ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اپنے عبوری حکم میں بنرجی اور ار±وپ رائے کی قیادت والے دونوں دھڑوں کے رہنماو¿ں کی بات سننے کے بعد کہا تھا کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر، 1968 کی متعلقہ دفعات کے تحت کرنا ہوگا۔
مغربی بنگال کے مشرقی مدناپور ضلع کے نندی گرام اور مرشدآباد ضلع کے ریجینگر اسمبلی حلقوں میں 6 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔
الیکشن کمیشن کا 17 ستمبر کا حکم اس وقت آیا جب حریف گروپوں نے پارٹی کے نام، انتخابی نشان اور تنظیمی کنٹرول پر اپنا اپنا دعویٰ پیش کیا۔ کمیشن نے کہا تھا کہ دو حریف گروپ ہیں، ایک بنرجی کی قیادت میں اور دوسرا مخالف دھڑے کی قیادت میں، اور اس تنازع کا حتمی تعین الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر، 1968 کے پیراگراف 15 کے تحت کیا جانا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت، ٹی ایم سی کے دھڑوں کے درمیان پارٹی نام اور انتخابی نشان کا تنازع تین ماہ میں طے کریں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments