Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

راجا سورت کی اساطیری داستان آج بھی درگاپور کے گاو¿ں سے جڑی ہوئی ہے

Admin
By Admin
Sep 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

راجا سورت کی اساطیری داستان آج بھی درگاپور کے گاو¿ں سے جڑی ہوئی ہے
راجا سورت کی اساطیری داستان آج بھی درگاپور کے گاو¿ں سے جڑی ہوئی ہے — September 28, 2026
راجا سورت کی اساطیری داستان آج بھی درگاپور کے گاو¿ں سے جڑی ہوئی ہے
چاروں طرف گھنا جنگل ہے۔ ایک وقت تھا جب دن کے وقت بھی اس جنگل میں سورج کی روشنی کی ایک کرن تک داخل نہیں ہو پاتی تھی۔ شیروں اور ریچھوں کی آمدورفت، اور سنسان جنگل میں سادھنا میں مشغول رشی منی۔ اسی گہرے جنگل کے اندر رشی میدھس کا آشرم واقع تھا۔ آج بھی اس گڑھ جنگل سے ایک قدیم داستان وابستہ ہے— راجا سورت، سمادھی ویشیہ اور دیوی مہامایا کی عبادت کی داستان۔
مقامی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ قسمت کے ہاتھوں اپنا سب کچھ کھو دینے کے بعد راجا سورت رشی میدھس کے آشرم پہنچے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات سمادھی ویشیہ سے ہوئی، جو اپنا گھر بار کھو چکے تھے۔ اس وقت دونوں ہی اپنی زندگی میں محرومی کے درد سے گزر رہے تھے۔ راجا سورت کا دل اپنے کھوئے ہوئے راج، رعایا اور شاہانہ زندگی میں اٹکا ہوا تھا۔ دوسری جانب سمادھی ویشیہ سب کچھ کھو دینے کے باوجود بار بار اپنے گھر اور اپنوں کے بارے میں ہی سوچتے رہتے تھے۔
لیکن سب کچھ کھو دینے کے باوجود انسان کا دل ان کھوئی ہوئی چیزوں کی جانب کیوں کھنچتا ہے؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے دونوں نے رشی میدھس کی پناہ لی۔
رشی نے انہیں سمجھایا کہ انسان کی یہ محبت اور وابستگی دراصل مہامایا کا ہی اثر ہے۔ ان کی ہدایت پر راجا سورت اور سمادھی ویشیہ نے دیوی مہامایا کی سادھنا شروع کی۔ سخت تپسیا کا آغاز ہوا۔ جنگل کے سنسان ماحول میں دونوں نے خود کو دیوی کی عبادت کے لیے وقف کر دیا۔طویل سادھنا کے بعد دیوی مہامایا ان کی تپسیا سے خوش ہوئیں۔ عوامی عقیدے کے مطابق، دیوی کی کرپا سے راجا سورت کو مستقبل میں اپنا راج واپس حاصل کرنے کا ملا، جبکہ سمادھی ویشیہ کو علم اور موہ سے نجات کا دان حاصل ہوا۔
اسی داستان کے ساتھ درگا پوجا کے قدیم ترین آغاز کا عقیدہ بھی جڑا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ رشی میدھس کے آشرم میں ہی راجا سورت نے پہلی بار دیوی درگا کی پوجا کی تھی۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس مقام کو درگا پوجا کی قدیم یادوں سے وابستہ سرزمین مانتے ہیں۔گڑھ جنگل کی اس قدیم سرزمین پر درگا پوجا صرف چند دنوں کا تہوار نہیں ہے۔ اس کے ساتھ راجا سورت کی کھوئی ہوئی سلطنت، سمادھی ویشیہ کی اپنے گھر بار سے وابستگی، رشی میدھس کی نصیحت اور دیوی مہامایا کی عبادت کی داستان جڑی ہوئی ہے۔
آج بھی وہ پتھر موجود ہے جس پر راجا سورت اور سمادھی ویشیہ نے پہلی بار درگا پوجا شروع کی تھی۔ درگا پوجا کے چار دن یہاں عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ اس آشرم میں یَگیہ کی آگ کئی صدیوں سے روشن ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کئی قدیم درخت اور ایک غار کے اندر دیوی چنڈی کی مورتی بھی موجود ہے۔گڑھ چنڈی دھام کے اہم سیوایت یوگیناتھ برہمانند گری نے کہا، ”یہیں دنیا کی پہلی درگا پوجا شروع ہوئی تھی۔ راجا سورت رشی میدھس کے آشرم میں آئے تھے اور انہوں نے دیوی کی عبادت کی تھی۔ اس مقام کے ساتھ بہت قدیم تاریخ اور مذہبی عقائد وابستہ ہیں۔ تاریخ کی بہت سی نشانیاں آج معدوم ہونے کے راستے پر ہیں۔ اگر ان کی مرمت اور حفاظت کی جائے تو ہم شکر گزار ہوں گے۔

راجا سورت کی اساطیری داستان آج بھی درگاپور کے گاو¿ں سے جڑی ہوئی ہے...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn