جادوپور یونیورسٹی کی دیواروں سے کارل مارکس کا تازہ تحریر کردہ قول مٹا دیا گیا
جادوپور یونیورسٹی میں دیوار نویسی کے تنازع اور سیاسی کشیدگی کے درمیان منگل کی گہری رات ایک بار پھر کیمپس کی اندرونی دیوار سے کارل مارکس کا قول مٹا دیا گیا۔ یہ قول اوپن ایئر تھیٹر کی دیوار پر لکھا تھا، جسے اب سفید رنگ سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ اس اقدام نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے، کیونکہ مارکس کے اس قول کا ملک دشمنی سے کوئی تعلق نہیں۔
چیف منسٹر شوبھندو ادھیکاری کی تنبیہ کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ہفتہ کی رات سے متنازع دیوار نویسی اور گرافٹی کو مٹانا شروع کیا تھا۔ اس دوران 'کشن جی زندہ باد' اور 'فری فلسطین' جیسے نعرے مٹا دیے گئے، جنہیں حکومت نے ملک دشمن قرار دیا تھا۔
تاہم، دیواروں کے سفید ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہی بائیں بازو کے طلباءنے کارل مارکس کا قول اور 'فری فلسطین' جیسے نعرے دوبارہ لکھ دیے تھے۔ اس پر وائس چانسلر چرنجیو بھٹاچاریہ نے منگل کو ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے طلباءسے درخواست کی کہ وہ دیواروں پر لکھنے کے بجائے اپنے خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پر کریں۔
ان کی اس اپیل کے چند گھنٹوں بعد ہی منگل کی آدھی رات کو نامعلوم افراد نے کیمپس میں داخل ہو کر کارل مارکس کا قول اور دیگر دیوار نویسی کو دوبارہ سفید رنگ سے ڈھانپ دیا۔ طلباء کا الزام ہے کہ یہ کارروائی بغیر کسی پیشگی اطلاع اور اجازت کے کی گئی۔ اس بار یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اقدام یونیورسٹی انتظامیہ نے کیا یا کوئی اور تھا، جس نے اس تنازع کو مزید ہوا دی ہے۔
جادوپور یونیورسٹی کی دیواروں سے کارل مارکس کا تازہ تحریر کردہ قول مٹا دیا گیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments