سی پی ایم رہنما لاہیک علی کو ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت دے دی
آخر کار سی پی ایم رہنما لاہیک علی کو عبوری ضمانت مل گئی۔ باروئی پور میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد فساد پھیلانے کے الزام میں پولیس نے جن 38 افراد کو گرفتار کیا تھا، لاہیک ان میں سے ایک تھے۔ ماں کی بیماری کی وجہ سے کلکتہ ہائی کورٹ نے انہیں آٹھ دن کی عبوری ضمانت منظور کی۔ جسٹس تیرتھنکر گھوش کی بنچ نے متعدد شرائط کے ساتھ انہیں ضمانت دی۔
5 جولائی کو باروئی پور میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد اندرجیت منڈل نامی ایک مقامی نوجوان کو گھیر کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ واقعے کے سات دن بعد، 12 جولائی کی رات لاہیک کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ان کے خلاف کل چار مقدمات درج کیے۔ سی پی ایم رہنما پر بنیادی الزام یہ تھا کہ وہ 5 جولائی کو فساد کے وقت موقع پر موجود تھے اور لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے پر اکسایا۔ لاہیک پہلے آٹھ دن پولیس تحویل میں رہے، پھر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
لاہیک کی والدہ شدید بیمار ہیں، یہ بات ان کے وکیل نے ہائی کورٹ کو بتائی۔ ہسپتال میں وینٹیلیٹر سپورٹ پر ان کا علاج جاری ہے۔ وکیل کی درخواست پر جسٹس گھوش نے 10 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کی۔ تاہم کئی شرائط بھی ہیں۔ لاہیک باروئی پور میں اپنے علاقے سے باہر نہیں جا سکتے۔ اگر باروئی پور تھانہ تحقیقات کے سلسلے میں انہیں پیش ہونے کو کہے تو انہیں ہر طرح کا تعاون کرنا ہوگا۔
ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ قید رہنے کے بعد لاہیک ضمانت پر رہا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سی پی ایم رہنما سوجن چکرورتی نے کہا، "جھوٹ کے جال کو توڑ کر لاہیک علی کو ضمانت ملی۔ مقدمہ گھڑ کر پھنسایا گیا تھا، رات کے اندھیرے میں مبینہ انکاو¿نٹر کے نام پر گواہوں کو ختم کیا گیا، ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لاہیک نہیں ڈرے۔ سیدھے کھڑے ہو کر لڑے۔ کیونکہ کمیونسٹ دوسری دھات کے بنے ہوتے ہیں۔ حکومت کو ڈرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف سمتوں سے یہ اشارے مل رہے ہیں۔
سی پی ایم رہنما لاہیک علی کو ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت دے دی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments