ریتو برتو کیمپ کے دس ایم ایل اے کی رکنیت خطرے میں ،اسپیکر نے نوٹس جاری
اسپیکر نے رِتو برتو سمیت 10 ارکانِ اسمبلی کو نوٹس بھیجا ہے۔ ریاستی اسمبلی کی جانب سے وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ ان کی رکنیت کیوں منسوخ نہ کی جائے۔ اطلاعات کے مطابق کل، 17 ستمبر کو اس نوٹس کا جواب دینے کی آخری تاریخ ہے۔جن کے نام نوٹس جاری کیا گیا ہے ان میں فرہاد حکیم، سبینا یاسمین، بپلَب مترا، جاوید خان، رتین گھوش، سندیپن ساہا، اخروالزمان انصاری اور شیولی ساہا شامل ہیں۔
اسمبلی کی تشکیل کے بعد ترنمول کانگریس کے اندر رِتو برتو سمیت ایک وقت میں ممتا بنرجی کے قریبی رہنے والے ارکانِ اسمبلی نے ’بغاوت‘ کا اعلان کردیا تھا۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رِتو برتو ہی بنے۔ ترنمول کانگریس دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی—رِتو دھڑا اور کالی گھاٹ دھڑا (ممتا حامی)۔ اس کے بعد جولائی میں کالی گھاٹ ترنمول کے بزرگ رکنِ اسمبلی شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے اسپیکر کو خط لکھا۔ انہوں نے ان ارکانِ اسمبلی کی پارٹی چھوڑنے کے خلاف قانون کے تحت رکنیت منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔
اب اسمبلی کی جانب سے ’باغی‘ 10 ارکانِ اسمبلی کو خط بھیجا گیا ہے۔ رِت برت کے علاوہ فہرست میں اروپ رائے، فرہاد حکیم، سبینا یاسمین، بپلَب مترا، جاوید خان، رتین گھوش، سندیپن ساہا، اخروالزمان انصاری اور شیولی ساہا کے نام شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کے روز شوبھن دیب نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس میں 10 باغی ارکانِ اسمبلی کے نام شامل ہیں۔ اس مقدمے میں اسپیکر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں ہیں۔
مجموعی طور پر ترنمول کانگریس کی صورتحال پیچیدہ سے مزید پیچیدہ ہوتی جارہی ہے! یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ اسپیکر نے اتنے دنوں بعد نوٹس کیوں جاری کیا۔ سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مہاراشٹر میں اسی طرح کے ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے وہاں کے اسپیکر کو سرزنش کی تھی۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ ریاست میں ایسی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو، اسی لیے یہ خط بھیجا گیا ہے۔
ریتو برتو کیمپ کے دس ایم ایل اے کی رکنیت خطرے میں ،اسپیکر نے نوٹس جاری...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments