طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر این آر ایس میں پرنسپل کا گھیراو
این آر ایس میں طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر طلبہ کے دھرنے کی وجہ سے تقریباً 8 گھنٹے تک پرنسپل اپنے دفتر میں محصور رہے۔ بدھ کو ہنگامی بنیاد پر کالج کونسل کی میٹنگ بلا کر طلبہ کے مطالبے پر بات چیت کی جائے گی، اس یقین دہانی کے بعد بالآخر گھیراو¿ ختم کیا گیا۔
طلبہ کا الزام ہے کہ اس سے پہلے جب انتخابات کا مطالبہ کیا گیا تھا تو پرنسپل نے بعد میں اطلاع دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم مقررہ مدت گزر چکی ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ 16 دن پہلے انتخابات کے لیے پرنسپل سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس وقت پرنسپل نے کالج کونسل کی میٹنگ بھی بلائی تھی۔ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ 14 دن بعد فیصلہ بتا دیا جائے گا۔ لیکن 16 دن گزرنے کے باوجود پرنسپل نے اس معاملے پر کوئی مزید تبصرہ نہیں کیا۔ اسی لیے طلبہ دوبارہ یہی مطالبہ لے کر پرنسپل کے پاس پہنچے تھے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر طالب علم سواپنِیل گھرا نے کہا، ”گزشتہ ڈیڑھ سال سے کوئی انتخاب نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے قائم مقام پرنسپل تھے۔ انہوں نے اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لیا۔“ انہوں نے کہا، ”پرنسپل نے بتایا ہے کہ انہوں نے محکمہ? صحت سے وقت مانگا تھا، لیکن انہیں اب تک وہ وقت نہیں مل سکا۔“
مذکورہ طالب علم نے مزید الزام لگایا، ”حکمراں جماعت کی حمایت یافتہ کچھ تنظیمیں متوازی ’طلبہ یونین‘ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پوری صورتحال دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔“ مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے دو مرتبہ نامزدگی کا نوٹس جاری کرکے واپس لے لیا گیا تھا۔
طلبہ یونین کے انتخابات کے مطالبے پر این آر ایس میں پرنسپل کا گھیراو...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments