مرشدآباد کے واقعے سے بھی سبق نہیں ملا! ریلوے گیٹ کھلا چھوڑ کر سو گیا گیٹ مین!
ریلوے گیٹ کھلا ہوا تھا۔ ٹرین مسلسل ہارن بجا رہی تھی۔ لیکن گیٹ مین کا کوئی اتا پتا نہیں تھا! وہ ریلوے گیٹ کھلا چھوڑ کر اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ دوسری جانب گیٹ کھلا دیکھ کر مقامی لوگ ریلوے لائن عبور کر رہے تھے۔ منگل کی رات حفاظت کی یہ سنگین تصویر ہگلی کی بینڈیل-کاتوہ شاخ پر سومڑا اسٹیشن کے قریب کولوڑا ریلوے گیٹ پر سامنے آئی۔
عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس وقت ڈاو¿ن کاتوہ لوکل تیز رفتاری سے لیول کراسنگ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ لیکن اس وقت بھی ریلوے گیٹ کھلا ہوا تھا۔ مقامی ذرائع کا الزام ہے کہ ٹرین گیٹ کے بالکل قریب پہنچنے کے باوجود گیٹ بند نہیں کیا گیا۔ ڈرائیور کے بار بار ہارن بجانے پر گیٹ مین وسیم شیخ جلدی سے نیند سے بیدار ہوا اور گیٹ بند کیا۔ صورتحال دیکھ کر راہگیروں اور مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایک بڑے حادثے کو ٹالنا ممکن ہوا۔ تاہم مقامی باشندوں اور مسافروں کو خدشہ ہے کہ معمولی سی تاخیر بھی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا سکتی تھی۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ اس روٹ پر ٹرینیں اکثر تاخیر سے چلتی ہیں۔ اسی وجہ سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ گیٹ مین گیٹ کھلا چھوڑ کر سو گیا تھا۔ لیکن اس دن ٹرین مقررہ وقت پر پہنچ گئی، جس کی وجہ سے خطرناک صورتحال پیدا ہوگئی۔ واقعے کے بعد سے ہی ریلوے گیٹ کی حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ خاص طور پر رات کے وقت ایسے اہم لیول کراسنگ پر ڈیوٹی انجام دینے والا ملازم کیسے سو گیا اور گیٹ کھلی حالت میں ٹرین اتنی قریب کیسے پہنچ گئی، اس حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مرشدآباد کے واقعے سے بھی سبق نہیں ملا! ریلوے گیٹ کھلا چھوڑ کر سو گیا گیٹ مین!...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments