ا میں شیرنی لانے کے لیے ’محبت کا جال‘! بہار سے آ رہی ہے ’شیرنی‘
شیرنی لانے کے لیے باکسہ ٹائیگر ریزرو کی 15 رکنی خصوصی ٹیم بہار روانہ ہوگئی ہے۔ ٹیم کے ساتھ خصوصی ایمبولینس اور شیرنی کو لانے کے لیے خصوصی پنجرہ بھی بہار بھیجا گیا ہے۔ آئندہ 2 اکتوبر کو بہار کے والمیکی ٹائیگر ریزرو کی شیرنی کو باکسہ ٹائیگر ریزرو کے جنگل میں لاکر چھوڑا جائے گا۔
اس سے ایک ہفتہ پہلے شیرنی کو بے ہوشی کی گولی دے کر قابو کیا جائے گا اور گرین کوریڈور کے ذریعے اسے باکسہ لایا جائے گا۔ اس کے بعد اسے باکسہ ٹائیگر ریزرو میں شیرنی کے لیے بنائے گئے خصوصی انکلوڑر میں رکھا جائے گا۔ وہاں چند دن رہنے کے بعد 2 اکتوبر کو اسے باکسہ ٹائیگر ریزرو کے جنگل میں آزاد کیا جائے گا۔
اسی دن شیر کو جنگل میں چھوڑنے کی تقریب علی پور دوار پریڈ گراو¿نڈ میں منعقد ہوگی۔ شیر کو جنگل میں چھوڑنے کی ویڈیو پریڈ گراو¿نڈ میں براہِ راست دکھائی جائے گی۔ عام لوگ بھی یہ تقریب دیکھ سکیں گے۔ اس تقریب میں خود وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کے موجود رہنے کی توقع ہے۔
ریاست کے وزیر جنگلات منوج کمار اوراو¿ں نے کہا، ”2 اکتوبر کو ہم بہار کی شیرنی کو باکسہ ٹائیگر ریزرو کے جنگل میں چھوڑیں گے۔ یہ تقریب ہم علی پور دوار شہر کے پریڈ گراو¿نڈ میں کریں گے۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ موجود رہیں گے۔ ہم اس تقریب سے جنگل میں شیر کو چھوڑنے کی ویڈیو براہِ راست دکھائیں گے۔ عام لوگ یہ ویڈیو دیکھ سکیں گے۔“
واضح رہے کہ 1982 میں علی پور دوار ضلع کے باکسہ ٹائیگر ریزرو کو ملک کے 15ویں ٹائیگر ریزرو کا درجہ ملا تھا۔ اس وقت اس جنگلاتی علاقے میں 20 سے زیادہ شیروں کی موجودگی کا ریکارڈ تھا۔ پہاڑی اور میدانی علاقوں سمیت باکسہ ٹائیگر ریزرو مجموعی طور پر 760 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
لیکن رفتہ رفتہ یہ جنگلاتی علاقہ شیروں سے خالی ہوگیا۔ فی الحال اس جنگل میں ایک بھی شیر موجود نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں بھوٹان سے اس جنگلاتی علاقے میں شیروں کی آمدورفت ٹریپ کیمروں میں ریکارڈ ہوئی ہے۔
اس صورتحال میں محکمہ جنگلات یہاں شیروں کی مستقل رہائش قائم کرکے علاقے کی پرانی شان واپس لانا چاہتا ہے۔ اسی مقصد سے محکمہ جنگلات نے بیرونی ریاست سے اس جنگلاتی علاقے میں شیر لاکر ان کی افزائشِ نسل کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔
ا میں شیرنی لانے کے لیے ’محبت کا جال‘! بہار سے آ رہی ہے ’شیرنی‘...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments