International

سموٹرچ کا مغربی کنارے میں 10 لاکھ آباد کار بسانے کا عندیہ ، عالمی سطح پر شدید مذمت

سموٹرچ کا مغربی کنارے میں 10 لاکھ آباد کار بسانے کا عندیہ ، عالمی سطح پر شدید مذمت

اسرائیلی وزیر خزانہ بیتسلیل سموٹرچ نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کو وسعت دینا ضروری ہے۔ سموٹرچ نے جمعرات کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مغربی کنارے پر بستیوں کے پھیلاؤ اور وہاں اسرائیلی خود مختاری کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی انتظامیہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی مکمل حمایت کر رہی ہے۔ سموٹرچ نے مزید کہا کہ اسرائیل کو "غزہ میں دوبارہ بستیوں کی آباد کاری کرنی چاہیے" اور یقین دلایا کہ اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے ان علاقوں سے نہیں نکلے گی جن پر اس نے قبضہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت اسرائیل کے لیے خود کشی کے مترادف ہے"۔ یہ بیان اس اعلان کے بعد سامنے آیا جب سموٹرچ نے بیت المقدس اور معالیہ ادومیم یہودی بستی کے درمیان واقع علاقے E1 میں 3401 نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کی منظوری دی۔ فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ E1 میں نئے تعمیراتی منصوبے، غزہ میں جاری نسل کشی اور آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملے ... مزید کشیدگی، تناؤ اور عدم استحکام کو ہی جنم دیں گے۔ انھوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2334، واضح طور پر مغربی کنارے، مشرقی بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں تمام آباد کاریوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ مصر اور اردن کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین نے بھی اسرائیلی وزیر کے بیانات کی مذمت کی۔ مصری وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری کے نفاذ سے متعلق سموٹرچ کے انتہا پسندانہ بیان کو مسترد کرتی ہے اور اسرائیل کو خبردار کرتی ہے کہ فلسطینی مسئلے کے خاتمے کے نظریے کے پیچھے نہ چلے۔

Source: socila media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments