کولکاتا، 12 ستمبر:مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے سابقہ بائیں بازو کی حکومتوں اور ترنمول کانگریس کی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں بنگال کے روایتی ہندو رسوم و رواج، مذہبی روایات اور ثقافتی ورثے کو منظم طریقے سے حاشیے پر دھکیل دیا گیا۔
مسٹر ادھیکاری نے گنیش پوجا کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہفتہ کو بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کی صورتحال کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی تقسیم کی تاریخ کے باعث ریاست کے ہندو¶ں کو بنگلہ دیش کے ہندو¶ں جیسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
مسٹر ادھیکاری نے الزام عائد کیا کہ بائیں محاذ کے 34 سالہ دور حکومت میں ہندو کیلنڈر، مذہبی کتابوں، پجاریوں، مذہبی رسومات، آرتی اور منتر کے جاپ سے وابستہ روایتی طریقوں سے لوگوں کو دور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بائیں بازو کی جماعت کی جانب سے پوجا کے دوران لگائے جانے والے کتابوں کے اسٹالوں پر کارل مارکس اور لینن کی کتابیں نمایاں طور پر رکھی جاتی تھیں، جبکہ سوامی وویکانند، سوامی لوکیشورانند اور بھارت سیواشرم سنگھ کے پرنَو پرکاشن کی کتابیں وہاں موجود نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال کے قیام اور دو قومی نظریے کی تاریخ کو بھی ایسے کتابوں کے اسٹالوں میں مناسب جگہ نہیں دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے 1947 میں مغربی بنگال کو ہندوستان میں شامل کرنے کی تحریک میں شیاما پرساد مکھرجی اور سوامی پرنَوانند کے کردار کو یاد کیا، لیکن الزام عائد کیا کہ ان سے متعلق کتابوں کو بھی ان اسٹالوں میں جگہ نہیں ملتی تھی۔ بنگلہ دیش میں غداری کے مبینہ الزامات کے تحت جیل میں بند سادھو چنمیہ کرشن داس کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرحد پار ہندو¶ں کی صورتحال نے اس تاریخی جدوجہد کی اہمیت کو اجاگر کردیا ہے ، جس کے نتیجے میں مغربی بنگال کا قیام عمل میں آیا۔
مسٹر ادھیکاری نے راجار ہاٹ-گوپال پور میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ''بنگلہ دیش میں چنمیہ پربھو کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو¶ں نے دنیا بھر کے سناتنیوں کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ان تصاویر کو دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہم نے شیاما پرساد مکھرجی اور سوامی پرنَوانند کی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان میں شامل ہونے کا حق حاصل نہ کیا ہوتا تو آج ہمارا بھی وہی حشر ہوسکتا تھا۔''
کولکاتا، 12 ستمبر:مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے سابقہ بائیں بازو کی حکومتوں اور ترنمول کانگریس کی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے دور حکومت می...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments