نیپال میں بادل پھٹنے کے ہولناک واقعے کے 17 دن گزر جانے کے باوجود سابق بی جے پی ممبر اسمبلی شبھانشو رائے کی اہلیہ شرمستھا بھومک رائے (44) کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ گزشتہ 21 اگست کو ہاوڑہ کی ایک ٹریول ایجنسی کے توسط سے کیلاش مانسرور یاترا پر روانہ ہونے والی شرمستھا بھومک اس سانحے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ سفر کے دوران اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں رہنے والی شرمستھا بھومک کا موبائل 26 اگست کی صبح راسوا اور چین-تبت سرحدی علاقے میں اچانک سیلاب آنے کے بعد سے بند ہو گیا ہے۔
اس شدید بے یقینی کے عالم میں بھی رائے خاندان کی امیدیں ٹوٹی نہیں ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ایک چھوٹے سے بیان اور اطلاعات نے اس اندھیرے میں نئی امید کی کرن جلا دی ہے، جس کے بعد شبھانشو رائے نے اپنی اہلیہ کی واپسی کے لیے حکومت ہند سے باضابطہ مدد کی اپیل کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، سانحے سے ٹھیک پہلے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سرحدی حکام نے کئی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا۔ شبھانشو کا ماننا ہے کہ ان محفوظ کیے گئے سیاحوں میں ان کی اہلیہ سمیت بنگال کے دیگر 32 لاپتہ سیاح بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر شبھانشو رائے نے مرکزی وزارت خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ چینی وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے ان اطلاعات کی تصدیق کریں۔ جمعہ کے روز چینی وزارت خارجہ کی ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، "پر امید دل اور ہاتھ جوڑ کر ہم پھنسے ہوئے 500 سے زائد افراد کے بچائے جانے کی یہ ویڈیو شیئر کر رہے ہیں۔ ہم حکومت ہند سے عاجزانہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان رپورٹس کی تصدیق کرے اور ہمارے پیاروں کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اطلاع فراہم کرے، کیونکہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی کٹھن علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔"
نیپال میں بادل پھٹنے کے ہولناک واقعے کے 17 دن گزر جانے کے باوجود سابق بی جے پی ممبر اسمبلی شبھانشو رائے کی اہلیہ شرمستھا بھومک رائے (44) کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ گزشتہ 21...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments