International

ٹرمپ کا ناروے کے وزیر خزانہ سےرابطہ،امن کانوبل انعام حاصل کرنےکےلیے ناروےکی حمایت کامطالبہ

ٹرمپ کا ناروے کے وزیر خزانہ سےرابطہ،امن کانوبل انعام حاصل کرنےکےلیے ناروےکی حمایت کامطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے کے وزیر خزانہ سے پچھلے دنوں دو طرفہ رابطے کے دوران ٹریڈ ٹیرف کے ایشوز پر تبادلہ خیال کے علاوہ ناروے سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ امن کے نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کی حمایت کرے۔ یہ بات جمعرات کے روز ناروے کے بزنس سے متعلق ایک روزنامے نے ایک رپورٹ کی صورت شائع کی ہے۔ مختلف ممالک کے رہنما اور اعلیٰ عہدیدار اس سے پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کے نوبل انعام کے لیے حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی ریاست کے وزیراعظم نیتن یاہو اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صدر ٹرمپ کو اپنی طرف سے امن کے نوبل انعام کا مستحق سمجھتے ہوئے اس بڑے انعام کے لیے نامزدگی کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں پہل پاکستان کی فوج کے سربراہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے کی گئی جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے ایک غیر معمولی دورے کے دوران صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے کیے نامزد کیا تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر تقریباً تین ماہ کے دوران امریکہ کے دو غیر معمولی دورے کر چکے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی ریاست کے سب سے بڑے اتحادی اور غزہ جنگ کے غیر اعلانیہ سرپرست ہونے کے ناطے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے سب سے بڑے عالمی نوبل انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ انہوں نے نوبل پرائز کمیٹی کے نام لکھا ہوا اپنا ایک خط وائٹ ہاؤس میں عشائیے کے موقع پر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں انہیں پیش کیا تھا۔ اسی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کو نیتن یاہو نے اس سب سے بڑے بمبار امریکی طیارے کا ماڈل بھی پیش کیا تھا جس کے ذریعے امریکہ نے اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران اسرائیلی درخواست پر ایران پر بمباری کی تھی۔ شاذونادر پیش آنے والی صورتحال میں امریکی صدر کا ناروے کے وزیر خزانہ جینز سٹولٹنبرگ سے رابطہ ہوا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا کہ وہ نوبل انعام اور ٹیرف کے ایشوز کو باہم ڈسکس کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور ناروے کی نوبل انعام کمیٹی نے تبصرے کے لیے رابطہ کرنے کے باوجود کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یاد رہے نوبل انعامات کے لیے دنیا سے ہر سال مختلف شعبوں میں سینکڑوں افراد کے نام زیر غور آتے ہیں۔ ان ناموں کو حتمی منظوری کے لیے ناروے کی پارلیمان کی قائم کردہ پانچ رکنی نوبل کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے۔ بعدازاں نوبل انعام کے مستحق قرار پانے والی شخصیات کے ناموں کا اعلان بھی ماہ اکتوبر میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہی کیا جاتا ہے۔ ناروے کے اخبار کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کا نام ناروے میں سٹولٹنبرگ کے ساتھ اس حوالے سے زیر بحث آیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس سلسلے میں بعض سطحوں پر رابطے ہو چکے ہیں۔ سٹولٹنبرگ نیٹو اتحاد کے سابق سیکرٹری جنرل ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق فون کال کے دوران صدر ٹرمپ اور وزیر خزانہ سٹولٹنبرگ نے ٹیرف معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا جبکہ ٹرمپ نے ناروے کے وزیر اعظم جوناس سٹورے سے بھی بات چیت کی۔ بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے دیگر حکام کے علاوہ امریکی وزیر خزانہ اور امریکہ کے تجارتی امور کے لیے نمائندہ بھی فون کال پر موجود تھے۔ وائٹ ہاؤس نے 31 جولائی کو ناروے سے آنے والی درآمدات پر 15 فیصد ٹیرف لگایا ہے۔ یورپی یونین پر بھی یہی 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ناروے کے وزیر خزانہ نے بدھ کے روز اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ٹریڈ ٹیرف کے حوالے سے امریکہ اور ناروے کے درمیان گفتگو اور رابطے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments