کلکتہ:
مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت ایک اور بڑا سیاسی ہلچل مچ گئی ہے جب انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے واحد ایم ایل اے اور پارٹی چیئرمین نوشاد صدیقی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے پختہ الزامات کے تحت آئی ایس ایف کے کارکرد صدر شمسیر علی ملک کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نوشاد کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق شمسیر علی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اگلے سات دنوں کے اندر اس شوکاز نوٹس کا تحریری اور بالمشافہ جواب دیں۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ شمسیر علی ملک کو آنے والی ۱۸ ستمبر کو شام پانچ بجے پارٹی کے مرکزی دفتر میں ذاتی طور پر حاضر ہو کر اس کی وضاحت پیش کرنی ہوگی۔ اس پورے معاملے کی سب سے خاص اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ نوشاد صدیقی کی ہدایات کے مطابق شمسور کو یہ جواب اپنے بڑے بھائی اور پیر و مرشد عباس صدیقی کی موجودگی میں دینا ہوگا۔ نوشاد کے خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ شمسور علی کا اکیلے اور پارٹی کی پشت پر متعدد بار پارٹی مخالف کردار کھل کر سامنے آیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمسور پارٹی کے اندر رہتے ہوئے دیگر مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ کر کے اپنے ذاتی مفادات اور سیاسی فائدے حاصل کرنے کی گھناؤنی کوشش کر رہے تھے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق، جب نوشاد صدیقی کو ۴۲ دن کی عدالتی حراست (جیل کسٹڈی) میں رکھا گیا تھا، یا پھر ۲۰۲۶ کے اسمبلی انتخابات کے دوران اتحاد (الائنس) کی پوری حکمت عملی اور عمل میں شمسور علی ملک نے ایک انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ایسے با اثر اور سینئر رہنما کے خلاف اس قسم کا سخت تادیبی قدم اٹھانے اور عباس صدیقی کی موجودگی میں طلب کرنے کے فرمان نے آئی ایس ایف کی اندرونی سیاست میں زبردست ہلچل مچا دی ہے اور سیاسی گلیاروں میں چہگوئیوں کا بازار گرم ہو گیا ہے۔
کلکتہ: مغربی بنگال کی سیاست میں اس وقت ایک اور بڑا سیاسی ہلچل مچ گئی ہے جب انڈین سیکولر فرنٹ (آئی ایس ایف) کے واحد ایم ایل اے اور پارٹی چیئرمین نوشاد صدیقی نے پارٹی مخالف سرگرمیوں ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments