Sports

ورلڈ کپ: مصری ٹیم کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر حسام حسن کے جشن نے اسرائیل میں ایک طوفان کھڑا کر دیا

ورلڈ کپ: مصری ٹیم کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر حسام حسن کے جشن نے اسرائیل میں ایک طوفان کھڑا کر دیا

ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 کے لیے کوالیفائی کرنے کی مصری ٹیم کی تاریخی کامیابی کی گونج فٹ بال کے میدان کی حدود سے باہر نکل گئی۔ اس کامیابی نے اسرائیلی میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اسرائیلی میڈیا نے مصری ٹیم کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر حسام حسن کے جشن پر تبصرے کیے۔ اس جشن کے دوران حسام حسن نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا اور انہوں نے یہ جیت فلسطینی عوام اور غزہ کی پٹی کے باشندوں کے نام کردی تھی۔ اس جشن نے ممتاز اسرائیلی اخبارات اور ویب سائٹس کی شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔ اسرائیلی ذرائع کا ماننا تھا کہ مصری کوچ کے اس اقدام نے کھیلوں کے ایونٹ پر پردہ ڈال دیا۔ یہ بحث اسرائیلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پھیل گئی جہاں مصر کے خلاف آئندہ میچ میں ارجنٹائن کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے کی تنقید اور مطالبات سامنے آئے۔ مزید برآں عبرانی ویب سائٹ "ماکو" نے فلسطینی پرچم کے ساتھ مصری کوچ کے جشن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ حسام حسن نے ایک ایسے ملک کا پرچم اٹھایا جو ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے رہا۔ عبرانی ویب سائٹ ’’ ماکو ‘‘ نے اسے "انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن فٹ بال (فیفا) کے قوانین کے مطابق ممنوع" قرار دیا۔ اخبار "یدیعوت احرونوت" نے ذکر کیا کہ حسام حسن نے اس موقع کا فائدہ فلسطینیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کے اظہار کے لیے اٹھایا اور غزہ کی پٹی سے سامنے آنے والی ان تصاویر اور ویڈیوز کی طرف اشارہ کیا جن میں وہاں کے باشندے میچ دیکھنے کے لیے جمع ہوئے اور مصری ٹیم کے حق میں نعرے لگائے۔ اسی طرح اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" نے بھی کوچ کے بیانات پر روشنی ڈالی اور ان کا یہ قول نقل کیا کہ "میرا دل اور میری روح ان کے ساتھ ہے، اللہ ان کے شہداء پر رحم کرے"۔ اخبار نے یہ موقف اپنایا کہ فلسطینی پرچم کے ساتھ ان کے جشن نے کھیلوں کی فتح کے ماحول پر پردہ ڈال دیا۔ یہ تنازع صرف میڈیا کوریج تک محدود نہیں رہا کیونکہ اسرائیلی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے تبصرے پھیل گئے جن میں مصری ٹیم کے کوچ کے موقف پر تنقید کی گئی۔ متعدد اسرائیلیوں نے مصر کے خلاف اگلے میچ میں ارجنٹائن کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے کی دعوت شروع کردی ہے۔ واضح رہے حسام حسن نے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف مصری ٹیم کی جیت کے بعد پچ کے اندر فلسطینی پرچم لہرایا تھا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ یہ فتح مصری اور فلسطینی عوام کے نام کرتے ہیں۔ انہوں نے میچ کے بعد ایک جذباتی بیان میں کہا کہ میرا دل اور میری روح ان کے ساتھ ہے۔ مصری ٹیم نے ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں اپنی پہلی فتح حاصل کی ہے۔ مصری ٹیم نے کل جمعہ کو کھیلے گئے راؤنڈ آف 32 کے میچ میں مقررہ اور اضافی وقت میں ایک اورایک گول میچ کے برابر رہنے کے بعد آسٹریلیا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر 4-2 سے شکست دی تھی۔ یہ جیت ورلڈ کپ فائنلز میں مصری ٹیم کی چوتھی شرکت کے دوران سامنے آئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں حسام حسن کو فلسطینی پرچم اٹھائے سٹیڈیم کے اندر چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا۔ شائقین نے فلسطین کی حمایت میں نعرے لگائے جس کے بعد یہ کلپ بڑے پیمانے پر پھیل گیا۔ یاد رہے سال کے اوائل میں لامين يامال نے بارسلونا کی ہسپانوی لیگ کا ٹائٹل جیتنے کی خوشی کے دوران فلسطینی پرچم لہرایا تھا جس پر اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز کی طرف سے تنقید کی گئی تھی۔ کاٹز نے کھلاڑی کے اس رویے کو نفرت کو ہوا دینے والا قرار دیا تھا۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments