نئے ووٹر کے اندراج کی درخواست میں پرانا طریقہ واپس، فارم-6 میں اب اضافی حلف نامہ نہیں
گیانیش کمار کو لے کر جاری تنازع کے ماحول میں انتخابی کمیشن نے جن ریاستوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکا ہے، وہاں فارم-6 میں کی گئی تبدیلی کو منسوخ کر دیا تھا۔ جمعرات کو ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کیا۔
سی ای او دفتر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد کے نام ابھی تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوئے ہیں، ان کے نام درج کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ پہلی مرتبہ ووٹر بننے والوں کے نام شامل کرنے پر سی ای او دفتر کی جانب سے خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کام ضلعی انتخابی افسر اور ای آر او (الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر) کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں فارم-6 میں کی گئی اہم تبدیلی کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ فارم-6 کے ساتھ ایس آئی آر کے اینیکسر-4 میں مذکور اضافی حلف نامہ (’ڈیکلریشن فارم‘) جمع نہیں کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ووٹر بننے کے لیے صرف وہی فارم استعمال کیے جائیں گے جو 1960 کے قانون (رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز) کے تحت قابلِ اطلاق ہیں۔
ہر اہل شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو سکے، اس کے لیے ڈی ای او اور ای آر او کے دفاتر میں خصوصی ’ہیلپ ڈیسک‘ قائم کرنے کی ہدایت بھی نوٹیفکیشن میں دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ گیانیش تنازع کے ماحول میں گزشتہ ہفتے ہفتہ کو انتخابی کمیشن کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ جن ریاستوں میں ایس آئی آر نہیں ہو رہا یا مکمل ہو چکا ہے، وہاں 1960 کے ووٹر قوانین کے مطابق فارم-6 دستیاب ہوگا۔ یعنی ایس آئی آر کے مرحلے سے پہلے جس شکل میں فارم-6 دستیاب تھا، اسی شکل میں اب بھی ملے گا۔اس اعلان کے تین دن بعد کمیشن کے پورٹل (ECINET) پر دوبارہ پرانی شکل والا فارم-6 دستیاب ہو گیا ہے۔ اس میں نئے ووٹر کو ایس آئی آر سے متعلق کوئی دستاویز جمع نہیں کرانی ہوگی۔
نئے ووٹر کے اندراج کی درخواست میں پرانا طریقہ واپس، فارم-6 میں اب اضافی حلف نامہ نہیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments