Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

قزاقوں کے ہاتھوں جہاز میں چھ ماہ تک قید، کھانے اور پانی کے لیے ہاہاکار! کارروائی کے بعد جہاز تو آزاد ہوا، لیکن کولکاتا کے تنویر واپس نہ آ سکے

Admin
By Admin
Oct 02, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

قزاقوں کے ہاتھوں جہاز میں چھ ماہ تک قید، کھانے اور پانی کے لیے ہاہاکار! کارروائی کے بعد جہاز تو آزاد ہوا، لیکن کولکاتا کے تنویر واپس نہ آ سکے
قزاقوں کے ہاتھوں جہاز میں چھ ماہ تک قید، کھانے اور پانی کے لیے ہاہاکار! کارروائی کے بعد جہاز تو آزاد ہوا، لیکن کولکاتا کے تنویر واپس نہ آ سکے — October 02, 2026
صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں کولکاتا کے رہنے والے ملاح محمد تنویر الزمان ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران تنویر کے اہل خانہ نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ دو چار مرتبہ ان سے بات بھی ہوئی تھی۔ اہل خانہ کو امید تھی کہ قزاقوں کے ساتھ جہاز کی کمپنی کی ثالثی سے متعلق بات چیت ناکام نہیں ہوگی اور گھر کا بیٹا گھر واپس آئے گا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
تنویر اقبال پور تھانہ علاقے کی نواب علی لین کے رہنے والے تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ جہاز پر باورچی تھے۔ چند ماہ قبل سعودی عرب سے ایک تیل بردار جہاز پر سوار ہو کر صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اپریل کے مہینے میں صومالیہ کے ساحلی علاقے کی آبی حدود سے گزرتے وقت قزاقوں نے جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ دیگر عملے کے ارکان کے ساتھ تنویر کو بھی یرغمال بنا لیا گیا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ تقریباً چھ ماہ تک قزاقوں کے قبضے میں قید رہنے کے بعد پٹ لینڈ پولیس کی کارروائی کے دوران تنویر سمیت پانچ ملاحوں کو قتل کر دیا گیا۔ بدھ کے روز جہاز کے کپتان کے ذریعے تنویر کی موت کی خبر اہل خانہ تک پہنچی۔
اہل خانہ کے ذرائع کے مطابق، جہاز کو ہائی جیک کیے جانے کے بعد ابتدائی دنوں میں تنویر ایک خفیہ فون کے ذریعے گھر والوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ بعد میں وہ فون بھی بند ہو گیا۔ اس کے بعد قزاق کبھی روزانہ اور کبھی ہفتے میں ایک مرتبہ یرغمال بنائے گئے ملاحوں کو اپنے اہل خانہ سے پانچ منٹ بات کرنے کا موقع دیتے تھے۔ ایک مرتبہ تنویر نے ویڈیو کال کے ذریعے بھی اہل خانہ سے بات کی تھی۔
اہل خانہ کے ایک فرد نے بتایا، ”جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، یرغمالیوں پر ظلم بڑھتا گیا۔ تاوان کی رقم ادا نہ ہونے کی وجہ سے سب کے لیے مختص کھانے اور پانی کی مقدار کم کر دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں انہیں گندا پانی بھی پینے کے لیے دیا جاتا تھا۔ تنویر سے جتنی مرتبہ بھی بات ہوئی، اس نے بار بار اپنی تکلیف کے بارے میں بتایا۔“

قزاقوں کے ہاتھوں جہاز میں چھ ماہ تک قید، کھانے اور پانی کے لیے ہاہاکار! کارروائی کے بعد جہاز تو آزاد ہوا، لیکن کولکاتا کے تنویر واپس نہ آ سکے...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn