اب غیر قانونی کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر میں سی بی آئی تحقیقات، ہائی کورٹ کو کس بات کا خدشہ؟
کولکاتا میں غیر قانونی کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی آڑ میں کروڑوں روپے کی کالی رقم کو سفید کیا گیا ہے۔ اس سنسنی خیز الزام کی تحقیقات کے لیے اب کولکاتا ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کو ہدایت دی ہے کہ 14 اکتوبر تک ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
راجابازار، مانک تلہ، بیلی گھاٹا سے لے کر کینال اسٹریٹ تک کم از کم 50 غیر قانونی کثیر المنزلہ عمارتیں موجود ہیں، جن پر چیف جسٹس کی نظر پڑی۔ اس کے بعد جمعہ کے روز کولکاتا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی بنچ نے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا۔
اس روز عدالت میں غیر قانونی طریقے سے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر سے متعلق ایک کے بعد ایک اہم معلومات سامنے آئیں۔ چیف جسٹس کی بنچ کا کہنا تھا کہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کے ذریعے بڑی مقدار میں کالی رقم کو سفید کیا گیا ہے۔ کروڑوں روپے کے غیر قانونی لین دین کے بارے میں کولکاتا میونسپل کارپوریشن بھی لاعلم نہیں تھی۔ اس کے باوجود جان بوجھ کر غیر قانونی کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کی گئیں، ایسا چیف جسٹس کی بنچ کا خیال ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود میونسپل کارپوریشن نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ چیف جسٹس کی بنچ کا کہنا ہے کہ یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ آیا کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے افسران اس ’غلط کام‘ میں براہِ راست ملوث یا ملی بھگت میں شریک تھے یا نہیں۔ اسی معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے انہیں براہِ راست خط بھیجا تھا۔ تاہم سابق ریاستی حکومت کی جانب سے تحقیقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں کی جا سکی۔
تاہم ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے بڑی مقدار میں کالی رقم کا لین دین اور کئی بااثر افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ اس لیے معاملے کی فوری طور پر تحقیقات ضروری ہیں۔ اس صورتحال میں عدالت کے حکم کے تحت سی بی آئی براہِ راست مداخلت کر سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے مرکزی تفتیشی ایجنسی کو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مکمل قانونی اختیار بھی دے دیا ہے۔
اب غیر قانونی کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر میں سی بی آئی تحقیقات، ہائی کورٹ کو کس بات کا خدشہ؟...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments