واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ایک ناکارہ حصے کے بدھ کو چاند سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم اس واقعے سے زمین کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ چاند کی سطح، اس کی ساخت اور خلائی تصادم کے اثرات کے بارے میں اہم سائنسی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔
ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز کے مطابق فالکن 9 راکٹ کا تقریباً پانچ ٹن وزنی بالائی حصہ (اپر اسٹیج) تقریباً 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ چاند کے مغربی حصے میں واقع آئن اسٹائن کریٹر کے قریب ٹکرائے گا۔
ناسا کے ترجمان جمی رسل نے کہا کہ اس واقعے سے زمین کے لیے کسی خطرے کا اندیشہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ادارہ اس راکٹ کے حصے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تصادم کے بعد بننے والے نئے گڑھے اور اس کے اثرات کا سائنسی مطالعہ کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ راکٹ کا وہی حصہ ہے جس نے جنوری 2025 میں اسپیس ایکس کے فالکن 9 مشن کے ذریعے فائر فلائی ایرو اسپیس کے بلیو گھوسٹ 1 اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کے ریزیلینس قمری لینڈرز کو خلا میں پہنچایا تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کے اس حصے کو ایسی مدار میں چھوڑ دیا گیا تھا جو بعد میں چاند کے ساتھ تصادم کے راستے میں آ گئی۔
لاس الاموس نیشنل لیبارٹری کے محقق اور اس تحقیق کے سربراہ بنجامن فرنانڈو کے مطابق تصادم کے نتیجے میں راکٹ کا حصہ مکمل طور پر تبخیر ہو جائے گا، جبکہ چاند کی سطح پر روشنی کی مختصر چمک، گرد و غبار کا بادل اور ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر چاند سے ٹکرانے والے شہابی پتھروں کی رفتار اور کمیت کے بارے میں پہلے سے درست معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، لیکن اس راکٹ کے بارے میں یہ تمام معلومات معلوم ہیں، اس لیے یہ واقعہ قدرتی تصادم کے مطالعے کے لیے ایک مثالی موقع فراہم کرے گا۔ سائنس دان تصادم سے اٹھنے والے گرد و غبار کا تجزیہ کر کے چاند کی سطح کی معدنی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ناسا آئندہ برسوں میں آرٹیمس پروگرام کے تحت دوبارہ خلا نوردوں کو چاند پر بھیجنے اور وہاں طویل مدتی انسانی موجودگی قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کے تصادم کا مطالعہ مستقبل کے قمری مشنز، رہائشی ڈھانچوں اور مدار میں موجود خلائی جہازوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
سائنس دانوں کے مطابق اس تصادم سے پیدا ہونے والی روشنی اتنی مدھم ہوگی کہ اسے برہنہ آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا، تاہم طاقتور دوربینوں کے ذریعے اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ محققین نے دنیا بھر کے شوقیہ فلکیات دانوں سے بھی اس نادر واقعے کا مشاہدہ کرنے اور اپنی اطلاعات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
Source: Admin
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
10 months ago
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
11 months ago
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
4 months ago
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
4 months ago
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
4 months ago
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
4 months ago
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
4 months ago
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
4 months ago
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
4 months ago
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
4 months ago
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments