بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والے ملزموں نے انکشاف کیا ہے کہ اصل ٹارگٹ عامر خان تھے مگر سکیورٹی کی وجہ سے ان تک نہ پہنچ پانے پر ہدف تبدیل کیا۔
پولیس سورسز پر مشتمل دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزموں کو عامر خان کو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد وہ ایک ماہ تک ممبئی میں رہے اور کم سے کم تین بار عامر خان کے گھر کی نگرانی کی۔
ملزموں کا کہنا ہے کہ نگرانی پر انہیں معلوم ہوا کہ عامر خان شوٹنگ کے لیے نکلنے پر کئی روز تک باہر رہتے یا پھر کئی دنوں تک گھر کے اندر ہی رہتے۔
ملزموں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے ٹائیگر شروف کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ ان کو ٹارگٹ بنانا نسبتاً آسان سمجھا گیا کیونکہ وہ ہر اتوار کو ممبئی کے علاقے جوہو کے ایک پارک میں فٹ بال کھیلنے جاتے ہیں اور 18 اکتوبر کو اسی مقام پر ان پر فائرنگ کی گئی۔
پولیس کا ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر خان کو نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ جولائی میں انہیں ملنے والی دھمکیوں سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ یہ دھمکیاں مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دی گئی تھیں۔
ممبئی پولیس ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اس واقعے میں اداکار کو زیادہ چوٹ نہیں آئی تاہم ان کا ڈرائیور اور ایک راہ گیر زخمی ہو گئے تھے۔
واقعے کے بعد سے اب 11 افراد کو راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور ہریانہ سے گرفتار کیا گیا ہے جن کا واقعے سے کسی نہ کسی طور تعلق نکلتا ہے۔
ممبئی پولیس کی جانب سے گینگسٹر انیل پنڈت کو اس کیس میں مطلوب ملزم قرار دیا گیا ہے جو کہ بشنوئی گینگ سے وابستہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ میں ہے۔
انیل پنڈت نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے واقعے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والے ملزموں نے انکشاف کیا ہے کہ اصل ٹارگٹ عامر خان تھے مگر سکیورٹی کی وجہ سے ان تک نہ پہنچ پانے پر ہدف تبدیل کیا۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments