نئی دہلی، یکم مارچ:) اردو ادب کے افق پر افسانہ نگاری کا ایک روشن و معتبر نام، ممتاز افسانہ نگار و صاحبِ طرز ادیبہ جیلانی بانو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں جیلانی بانو کافی عرصے سے علیل تھیں اور حیدر آباد میں انہوں نے آخری سانس لی ان کے انتقال سے اردو دنیا ایک توانا، حساس و باشعور آواز سے محروم ہو گئی ہے ۔ انھوں نے اپنے گہرے مشاہدے ، حقیقت پسندانہ اسلوب و سماجی شعور سے بھرپور تحریروں کے ذریعے اردو افسانے کو نئی فکری جہت سے روشناس کرایا۔ جیلانی بانو کی ولادت اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں 14 جولائی، 1936 کو ہوئی۔ جیلانی بانو نے جس عہد میں ہوش سنبھالا، وہ جاگیر دارانہ ماحول و معاشرے کی ٹوٹتی بکھرتی روایتوں اور قدروں، سیاسی و سماجی تغیرات اور تحریک آزادی کا دور تھا۔ اس دور کے حالات و مسائل نے ان کے حساس ذہن کو متاثر کیا۔ اور جب انھوں نے قلم اٹھایا تو اپنی تمام تر فن کارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی سعی کی۔ انسانی زندگی کے نشیب و فراز اور دیگر سیاسی، سماجی مسائل کو کہانیوں کے پیرائے میں ڈھال دیا۔ ابتدائی عمر سے ہی انھوں نے میر تقی میر، غالب، اقبال، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، گورکی، چیخوف، موپساں، بیدی، فیض احمد فیض، مجاز، قرةالعین حیدر اور احمد ندیم قاسمی سمیت تمام بڑے بڑے ادبا کا کام پڑھ ڈالا- ان عظیم مصنفین کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو خوب جلا بخشی- جیلانی بانو نے نثر کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ انھوں نے اپنا تخلیقی سفر ملک کی آزادی کے بعد شروع کیا۔ ان کی شہرہ آفاق تحریر نام 'موم کی مریم ' ماہنامہ 'سویرا' میں شائع ہوئی، جس نے انھیں شہرت کی بلندیو پر پہنچادیا۔ جیلانی بانو نے 2002 میں ایک افسانہ لکھا تھا، جس کا عنوان ہے 'عباس نے کہا' جسے صلاح الدین پرویز نے اپنے ادبی جریدے 'استعارہ' میں شائع کیا۔ یہ افسانہ عراق پر ہونے والی جنگ میں امریکہ کی بربریت کی کہانی پر مبنی ہے ۔ ان کے افسانے ان معنوں میں انفرادی اہمیت کے حامل ہیں کہ اس میں ماضی، حال اور مستقبل کے اشارے بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اردو کے نسائی ادب میں وہ فکشن کے حوالے سے بہے سے بلند مقام پر نظر آتی ہیں اور یہ مقام انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل پر حاصل کیا۔ جیلانی بانو نے اپنے ناولوں میں کچھ ایسے مسائل کو موضوع بنایا ہے ، جو برسہا برس گزرنے کے بعد بھی ہمارے اس جدید ترین معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور انسان اس کا مسلسل شکار ہو رہا ہے ۔ 'پتھروں کی بارش' کے نام سے ہندی میں 1987 میں دہلی سے شائع ہوا۔ جیلانی بانو کے ناولٹ کا مجموعہ 'جگنو اور ستارے ' کے نام سے لاہور سے 1965 میں شائع ہوا۔ اس مجموعہ میں تین ناولٹ شامل ہیں۔ 'دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر، جگنو اور ستارے اور رات'۔ جگنو اور ستارے کا ایک اور ایڈیشن پاکٹ بکس سائز میں شائع ہوا ہے اس مجموعے میں صرف دو ناولٹ ہی یکجا ہیں۔ 'رات اور جگنو اور ستارے '۔ جیلانی بانو کے دوسرے ناولٹ کا مجموعہ ' نغمے کا سفر' ہے ۔ یہ 1977 میں حیدرآباد سے شائع ہوا۔ انہیں کئی متعدد ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا جن میں 'غالب ایوارڈ، دوشیزہ ایوارڈ (پاکستان)، سویت لینڈ نہروایوارڈ (ماسکو)، مہاراشٹر اردو اکیڈمی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ (پاکستان)اور پدما شری ایوارڈ (ہندوستان)' شامل ہیں۔ ان کی معروف تحریروں میں 'روشنی کے مینار، جگنو اور ستارے ، نغمے کا سفر، ایوان غزل، بارش سنگ، رستہ بند ہے ، پرایا گھر، بات پھول کی، یقین کے آگے گمان کے پیچھے ، سچ کے سوا' شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے حیدرآباد شہر پر بننے والی ڈاکیومنٹری 'حیدرآباد ایک شہر ایک تہذیب' کا اسکرپٹ بھی تحریر کیا تھا۔
Source: UNI NEWS
ایک شام غزل کے نام
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا 105 سالہ سفر فکری آزادی،علمی روشنی اور عزم مسلسل کی تابناک داستان ہے پروفیسر مظہر آصف
ٹیچرس ڈے کے ساتھ جشن یو م عید میلا د النبی بھی منایا گیا
بین المذاہب ہم آہنگی موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت مولانا محمد شفیق قاسمی
مدرسہ غوثیہ گڑھاٹولی میں جشن دستاربندی آج
مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے سول انجینئرنگ کے طلبہ نے کیا منماڑ ریلوے ورکشاپ کا دورہ
ایک شام غزل کے نام
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا 105 سالہ سفر فکری آزادی،علمی روشنی اور عزم مسلسل کی تابناک داستان ہے پروفیسر مظہر آصف
ٹیچرس ڈے کے ساتھ جشن یو م عید میلا د النبی بھی منایا گیا
بین المذاہب ہم آہنگی موجودہ وقت کی اہم ترین ضرورت مولانا محمد شفیق قاسمی
مدرسہ غوثیہ گڑھاٹولی میں جشن دستاربندی آج
مولانا مختار احمد ندوی ٹیکنیکل کیمپس کے سول انجینئرنگ کے طلبہ نے کیا منماڑ ریلوے ورکشاپ کا دورہ
گیارہویں شمیم نکہت فکشن ایوارڈ کیلئے پروفیسرطارق چھتاری کے نام کا اعلان
رشڑا ہگلی کے زاہد حسن خان نے اپنے والد مولانا وزیر حسن خان کے ایصال و ثواب کے لئے ایک دعائیہ جلسہ منعقد کیا