64 سرکاری صحت مراکز سے کروڑوں روپے کے طبی آلات کے پرزے غائب
دیہی علاقوں میں جدید اور بہتر صحت کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا مقصد تھا۔ اسی مقصد کے تحت بڑی رقم خرچ کرکے متعدد طبی آلات بھیجے گئے تھے۔ اب انہی آلات کے پرزے متعلقہ اسپتالوں سے ’غائب‘ ہو گئے ہیں۔ اس معاملے کے پیش نظر پندرہویں مالیاتی کمیشن کی رقم سے خریدے گئے طبی آلات کی چوری کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ریاستی محکمہ صحت نے تمام اضلاع کے چیف میڈیکل افسران کو ہدایت دی ہے۔
محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق 12 اضلاع کے 64 سرکاری صحت اداروں میں طبی آلات کی ’چوری‘ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان 64 سرکاری اداروں میں 50 ذیلی صحت مراکز، 13 بلاک پرائمری ہیلتھ سینٹرز اور ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر شامل ہیں۔چوری کے واقعات کی فہرست میں ہاوڑہ سب سے اوپر ہے۔ ہاوڑہ کے 25 صحت مراکز میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں سے 18 صحت مراکز سانکرائل میں واقع ہیں، جبکہ باقی سات شیام پور نمبر 2 بلاک کے تحت آتے ہیں۔کووڈ سے نمٹنے کے لیے دیہی صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے 2021-22 میں پندرہویں مالیاتی کمیشن نے ان تمام طبی آلات کی خریداری کے لیے رقم مختص کی تھی۔ یہ رقم نیشنل ہیلتھ مشن کے منصوبے کے تحت منظور کی گئی تھی۔
کروڑوں روپے خرچ کرکے خریدے گئے ان آلات کی مناسب دیکھ بھال کے لیے نیشنل ہیلتھ مشن کے اس وقت کے ڈائریکٹر نے 2024 میں تمام اضلاع کے ضلع مجسٹریٹس اور چیف میڈیکل افسران کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان آلات کا مناسب طریقے سے استعمال یقینی بنایا جائے۔
64 سرکاری صحت مراکز سے کروڑوں روپے کے طبی آلات کے پرزے غائب...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments