ایس آئی آر سے ترنمول کے انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوئے: الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے پیر کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ بنگال میں ایس آئی آر کے عمل سے اس وقت کی حکمراں ترنمول کانگریس کے انتخابی نتائج پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔
اس کے برعکس، الیکشن کمیشن نے کہا کہ 21 حلقوں میں، جہاں ووٹر فہرست سے حذف کیے گئے نام جیت کے فرق سے زیادہ تھے، وہاں ترنمول کانگریس کے امیدوار ہی کامیاب ہوئے۔کمیشن نے ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیرک او برائن کی جانب سے دائر درخواست کے جواب میں حلف نامہ داخل کیا۔ او برائن نے بنگال کے 31 حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ان حلقوں میں ایس آئی آر کے دوران حذف کیے گئے نام بی جے پی کی جیت کے فرق سے زیادہ تھے۔
الیکشن کمیشن نے کہا، ”یہ فرض کرتے ہوئے بھی کہ درخواست گزار (او برائن) کے جن اعداد و شمار پر انحصار کیا گیا ہے وہ درست ہیں، لیکن غیر اہل ASDD (غیر حاضر، منتقل ہو چکے، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ) اندراجات سے متعلق حذف شدہ ناموں کو نکالنے کے بعد خود درخواست گزار کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی حلقوں میں تصدیق کے بعد حذف کیے گئے نام شکست کے فرق سے کم ہیں۔ لہٰذا درخواست گزار کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق بھی مذکورہ حلقوں میں زیرِ تفتیش خالص حذف شدہ نام شکست کے فرق سے کم تھے، جس سے یہ قیاس آرائی مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوتی ہے کہ اس عمل نے انتخابی نتیجے کو تبدیل کر دیا۔“
کمیشن نے مزید کہا، ”یہ بات قابل ذکر ہے کہ درخواست گزار نے اسی ڈیٹا کے دوسرے پہلو کو نظرانداز کیا ہے جس پر وہ خود انحصار کر رہا ہے۔ جیسا کہ درخواست گزار کی اپنی مداخلتی درخواست میں ظاہر کیا گیا ہے، کم از کم 21 حلقوں میں زیرِ تفتیش حذف کیے گئے ناموں کی تعداد درخواست گزار کی اپنی پارٹی کے امیدواروں کی جیت کے فرق سے زیادہ ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے اسی معیار اور دلیل کو لاگو کیا جائے تو اسے ان حلقوں میں بھی انتخابات کے نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا پڑے گا جہاں اس کی اپنی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔“
الیکشن کمیشن نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ”درخواست گزار نے ایک بار پھر ان معزز عدالتی افسران پر انگلی اٹھائی ہے جنہوں نے ایس آئی آر کے عمل میں حصہ لیا، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ معزز عدالتی افسران نے اس معزز عدالت کی ہدایات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔“کمیشن نے کہا، ”یہ الزامات بالکل غیر ضروری، قابل اعتراض اور توہینِ عدالت کے زمرے کے قریب ہیں، خاص طور پر اس وقت جب عدالتی افسران نے بار بار کیے گئے غیر ضروری حملوں کے باوجود انتہائی احتیاط اور غیر جانب داری کے ساتھ یہ عمل انجام دیا۔“
کمیشن کے مطابق او برائن کی جانب سے تمام حذف شدہ ناموں کو ”مو¿ثر طور پر حقِ رائے دہی سے محرومی“ قرار دینے کی کوشش ”بالکل غلط اور گمراہ کن“ ہے۔ کمیشن نے الزام لگایا کہ او برائن نے اپنی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار میں ASDD کے تحت کیے گئے اخراج کو بھی ”مکارانہ طور پر“ شامل کیا، تاکہ یہ غلط تاثر دیا جا سکے کہ عدالتی افسران کی جانب سے کیے گئے اس عمل نے درخواست گزار کے انتخابی امکانات کو نقصان پہنچایا۔
الیکشن کمیشن نے کہا، ”ایک بنیادی طور پر ناقص اور قیاس آرائی پر مبنی معیار کو منتخب اور غیر مستقل انداز میں لاگو کرنا موجودہ درخواست کی خود غرض اور بدنیتی پر مبنی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔“24 جون کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں بہار میں ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا گیا تھا، الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 329 (بی) کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق، ”پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان یا کسی ریاست کی مقننہ کے ایوان یا کسی ایوان کے لیے ہونے والے کسی بھی انتخاب کو اس وقت تک چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ متعلقہ قانون ساز ادارے کی جانب سے بنائے گئے کسی قانون کے تحت مقرر کردہ اتھارٹی اور مقررہ طریقے سے انتخابی عرضی پیش نہ کی جائے۔“
تاہم، الیکشن کمیشن نے تسلیم کیا کہ ناموں کے اخراج یا شمولیت کے خلاف دائر کی گئی مجموعی 38,31,429 اپیلوں میں سے اب تک صرف 1,26,194 پر فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ 37,05,235 معاملات زیر التوا ہیں۔ کل اپیلوں میں سے 22,21,118 ان افراد نے دائر کی ہیں جن کے نام فہرست سے خارج یا حذف کیے گئے، جبکہ 16,10,311 اپیلیں ان لوگوں نے دائر کی ہیں جنہوں نے دوسرے افراد کے نام شامل کیے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپیلوں کی سماعت کرنے والے ٹریبونلز کی تعداد 19 سے بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
ایس آئی آر سے ترنمول کے انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوئے: الیکشن کمیشن...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments