میٹرک کے امتحانات ملتوی ہو سکتے ہیں! تاریخوں میں تبدیلی کی تجویز پیش
سال 2027 کے میٹرک (مدھیامک) امتحانات 15 فروری سے شروع ہونے والے ہیں۔ لیکن اب ان امتحانات کے ملتوی ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ امتحانات کے شیڈول میں بڑی تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کے صدر نے پہلے ہی محکمہ اسکولی تعلیم کو خط لکھ دیا ہے۔ لیکن آخر اتنے اہم امتحان کی تاریخوں میں تبدیلی کی تجویز کیوں دی گئی ہے؟
معلوم ہوا ہے کہ سال 2027 کے جنوری ماہ سے ملک بھر میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے تحت گھر گھر جا کر معلومات جمع کرنے کا کام شروع ہوگا۔ یہ عمل یکم مارچ تک جاری رہے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کام میں بڑی تعداد میں اسکول اساتذہ کو شامل کیا جائے گا۔ انہیں مردم شماری کی اہم ذمہ داری سونپی جائے گی۔
دوسری جانب میٹرک کے امتحانات 15 فروری سے شروع ہونے والے ہیں۔ ایسے میں اگر اساتذہ مردم شماری کے کام میں مصروف رہیں گے تو وہ امتحانات میں بطور ممتحن کس طرح اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں گے؟
اس دوران اسکولوں میں امتحانات کے لیے مناسب تعداد میں اساتذہ اور نگرانوں کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ اگر تمام اساتذہ امتحانات میں مصروف رہیں گے تو مردم شماری کا کام متاثر ہوگا۔ اس کے علاوہ مقررہ مدت میں مردم شماری کا کام مکمل کرنے میں بھی آخری وقت پر مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ اس صورت حال میں دونوں اہم کام متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مردم شماری کے دوران میٹرک کے امتحانات منعقد نہ کرانے اور انہیں ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اگلے سال 15 فروری کے بجائے 2 مارچ سے میٹرک کے امتحانات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے صدر لالو داس نے 2 نومبر، منگل کے روز محکمہ اسکولی تعلیم کے کمشنر کو خط لکھا ہے۔
درخواست کے ساتھ امتحانات کا نیا شیڈول بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ میٹرک کے امتحانات کی تاریخوں کا ہائر سیکنڈری، دیگر داخلہ امتحانات اور مسابقتی امتحانات سے ٹکراو¿ نہ ہو۔
تاہم اس تجویز کو حتمی منظوری محکمہ اسکولی تعلیم ہی دے گا۔
میٹرک کے امتحانات ملتوی ہو سکتے ہیں! تاریخوں میں تبدیلی کی تجویز پیش...
Source: Admin