صنعتی منصوبوں کے خلاف قبائلی تنظیموں کی پرولیا میں بڑی ریلی، زمین، جنگلات اور پانی کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
جنگل محل کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے قبائلی افراد نے پیر کے روز پرولیا کے مان بازار میں ایک میدان میں بڑے پیمانے پر کنونشن منعقد کیا۔ اس اجتماع کا مقصد مغربی بنگال کے اس علاقے میں گزشتہ کئی برسوں سے تیزی سے قائم ہونے والے صنعتی منصوبوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ قبائلی تنظیموں کا الزام ہے کہ ان منصوبوں کے ذریعے ان کے ”پانی، زمین اور جنگلات کے حقوق“ کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
اس کنونشن کا انعقاد بھارت جاکت ماجھی پرگنا محل کی پرولیا ضلع یونٹ نے کیا تھا، تاہم پتھرکاٹا فٹ بال گراو¿نڈ میں منعقدہ اس اجلاس میں تقریباً 20 دیگر قبائلی تنظیموں نے بھی شرکت کی۔
اس اجتماع میں میزبان ضلع پرولیا کے علاوہ جھارگرام، بانکوڑہ اور مغربی مدنی پور سمیت مختلف اضلاع کے قبائلی نمائندے بھی موجود تھے۔
بھارت جاکت ماجھی پرگنا محل کے پرولیا ضلعی صدر رتن لال ہانسدا نے کہا، ”ہم اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں، جن میں زمین، جنگلات اور پانی سے متعلق ہمارے آئینی حقوق بھی شامل ہیں۔ آج کی یہ بڑی ریلی قبائلی حقوق کے تحفظ کے لیے منعقد کی گئی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کسی غیر قبائلی برادری کے لوگوں کو قبائلی درجہ دیا جائے۔“
قبائلی تنظیموں کے رہنماو¿ں نے کئی مسائل اٹھائے، جن میں اسپنج آئرن فیکٹریوں جیسے صنعتی منصوبوں کا قیام بھی شامل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان صنعتوں کی وجہ سے قبائلی بستیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ رہنماو¿ں کے مطابق اس کنونشن میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے شرکت کی۔
ریلی میں موجود ایک رہنما نے بتایا، ”میدان شرکائ سے پوری طرح بھر گیا تھا اور بھیڑ کے لیے جگہ کم پڑ گئی۔ بہت سے لوگ میدان میں داخل نہیں ہو سکے، جس کے باعث وہاں تک جانے والی سڑک پر تقریباً دو کلومیٹر تک لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔“
پریکِتی بچاو¿ او آدیواسی بچاو¿ منچ کے جنوبی بنگال کنوینر راجن ٹوڈو نے کہا، ”ہمیں کسی ایک حکومت سے شکایت نہیں ہے، کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ تمام حکومتیں قبائلی حقوق کو ترجیح دینے میں دلچسپی نہیں دکھاتی ہیں۔ ہزاروں جعلی ایس ٹی سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں اور آئین کے تحت حاصل کیے گئے ہمارے قبائلی حقوق بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔“
انہوں نے الزام لگایا کہ حال ہی میں راغوناتھ پور میں دو اسپنج آئرن فیکٹریاں قائم کی گئی ہیں، لیکن ان کے قیام سے متعلق عوامی سماعت کے عمل میں قبائلی برادری کے نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔
قبائلی رہنماو¿ں کا دعویٰ ہے کہ پرولیا میں معدنیات پر مبنی صنعتوں کا قیام ماضی کی تمام حکومتوں کے دور میں مسلسل جاری رہا ہے۔ اسی لیے انہوں نے بڑے پیمانے پر یہ کنونشن منعقد کرکے نئی حکومت تک قبائلی برادری کے مطالبات پہنچانے کی کوشش کی۔
راجن ٹوڈو نے مزید کہا، ”پچھلی حکومت کے دور میں ہم نے پرولیا کی اجودھیا پہاڑیوں پر تین منصوبوں کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔ اگر قبائلی حقوق پر حملے کا سلسلہ جاری رہا تو ہم اپنے کنونشن اور تحریکیں جاری رکھیں گے۔“
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں جھارگرام کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے قبائلی فلاح و بہبود کے لیے کئی منصوبوں کا افتتاح اور اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ریاست کے قبائلی عوام کی دیکھ بھال کرے گی اور ان کے حقوق اور ترقی کو یقینی بنائے گی۔
اپریل میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے قبائلی برادری کے لیے مخصوص تمام 16 اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ قبائلی آبادی والے علاقوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
صنعتی منصوبوں کے خلاف قبائلی تنظیموں کی پرولیا میں بڑی ریلی، زمین، جنگلات اور پانی کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ...
Source: Admin