Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

راجبنشی مہاسنگھ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کریں گے میٹنگ، آئین کے آٹھویں شیڈول میں زبان کو شامل کرنے کا مطالبہ لے کر اترکنیا پہنچے رہنما

Admin
By Admin
Nov 03, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

راجبنشی مہاسنگھ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کریں گے میٹنگ، آئین کے آٹھویں شیڈول میں زبان کو شامل کرنے کا مطالبہ لے کر اترکنیا پہنچے رہنما
راجبنشی مہاسنگھ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کریں گے میٹنگ، آئین کے آٹھویں شیڈول میں زبان کو شامل کرنے کا مطالبہ لے کر اترکنیا پہنچے رہنما — November 03, 2026
راجبنشی مہاسنگھ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کریں گے میٹنگ، آئین کے آٹھویں شیڈول میں زبان کو شامل کرنے کا مطالبہ لے کر اترکنیا پہنچے رہنما
شمالی بنگال کی سیاست کا ذکر ہو اور راجبنشی برادری کا تذکرہ نہ ہو، ایسا ممکن نہیں۔ جلپائی گوڑی، علی پور دوار، شمالی دیناج پور، جنوبی دیناج پور، مالدہ اور دارجلنگ اضلاع میں بھی اس برادری کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے راجبنشی زبان کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے منظوری دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد راجبنشی اور کامتاپوری برادری کے لوگوں نے بھی اس امید سے آس لگائی تھی۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سوویندو ادھیکاری کئی بار شمالی بنگال کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن راجبنشی رہنماو¿ں کا دعویٰ ہے کہ اس مسئلے پر اب تک کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ آخرکار منگل کو سلی گوڑی میں وزیر اعلیٰ اس سلسلے میں میٹنگ کرنے جا رہے ہیں۔

ضلع انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، منگل کو سلی گوڑی کے اترکنیا میں انتظامی میٹنگ کے ساتھ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کامتاپوری اور راجبنشی برادری کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اسی لیے منگل کی صبح سے ہی اترکنیا میں راجبنشی اور کامتاپوری برادری کے رہنماو¿ں کی آمد دیکھی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے زبان کو منظوری دینے کا مطالبہ کرنے کے باوجود انہیں صرف وعدے ہی ملے ہیں۔ اب شاید اس مسئلے کا حل نکل سکے۔ رہنماو¿ں کا مطالبہ ہے کہ راجبنشی زبان کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے آئینی منظوری دی جائے۔

نوے کی دہائی میں نیپالی زبان کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے منظوری دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے راجبنشی اور کامتاپوری برادری کے لوگ اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے اپنی زبان کو آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

پروفیسر مہندر ناتھ رائے نے کہا، ”ہمارے کئی مطالبات ہیں، لیکن ان میں سب سے اہم مطالبہ ہماری اپنی زبان کا ہے۔ ہم اپنی زبان میں اسے ’ماو بھاشا‘ کہتے ہیں، یعنی مادری زبان۔ اگر اس زبان کو آئین میں شامل کیا جاتا ہے تو پوری دنیا شمالی بنگال کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے بارے میں جان سکے گی۔ اگر اس زبان کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کیا جائے تو ہمارے علاقے کے لڑکے اور لڑکیاں اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرکے آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسر بن سکیں گے۔“

پروفیسر نے بتایا کہ ان سبھی نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ راجبنشی یا کامتاپوری، ان دونوں میں سے کسی ایک زبان کو آئینی منظوری دی جائے۔

کامتاپوری تنظیم کی جانب سے اترکنیا پہنچنے والی اشٹمی رائے سنگھ نے کہا، ”کامتاپوری برادری کے لوگ اپنی شناخت کے حوالے سے بحران کا شکار ہیں۔ 1970 سے ہی زبان کو منظوری دلانے کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد زبان کے لیے کئی تنظیمیں قائم ہوئیں۔ کبھی کے پی پی، کبھی اے کے ایس یو تو کبھی کے ایل او۔ آج وزیر اعلیٰ نے ہمیں ملاقات کے لیے بلایا ہے، اسی لیے ہمیں امید کی ایک کرن نظر آ رہی ہے۔“

انہوں نے الزام لگایا، ”پچھلی حکومت ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی پر چلتی رہی۔ اس نے راجبنشی اور کامتاپوری برادری کے درمیان تقسیم پیدا کر دی۔“

راجبنشی یا کامتاپوری، کس زبان کو منظوری دی جائے، اس معاملے پر شمالی بنگال کے ترقیاتی وزیر نشیت پرمانک پہلے ہی مختلف تنظیموں کے ساتھ میٹنگ کر چکے ہیں۔ شمالی بنگال کے مختلف علاقوں میں دونوں برادریوں کے کئی مطالبات ہیں، لیکن ایک مطالبے پر سبھی متحد ہیں، اور وہ ہے زبان کو آئینی منظوری دلانا۔

مختلف تنظیموں نے مل کر ’راجبنشی مہاسنگھ‘ تشکیل دیا ہے۔ اس مہاسنگھ نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے سامنے راجبنشی زبان کو آئینی منظوری دینے کا مطالبہ رکھا جائے گا۔ تنظیم کو امید ہے کہ منگل کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے مثبت پیغام ملے گا۔

دوسری جانب، راجبنشی مہاسنگھ کے الزامات پر ریاست کے سابق وزیر اور سلی گوڑی کے سابق میئر گوتم دیو نے کہا، ”ہم نے تقریباً 75 ماہرینِ لسانیات سے بات کی تھی۔ کامتاپوری اور راجبنشی زبانوں میں زیادہ فرق نہیں ہے، لیکن یہ لوگ دو الگ الگ گروپوں میں تقسیم تھے۔ کامتاپور پیپلز پارٹی ہمیشہ الگ شناخت کا مطالبہ کرتی تھی۔ یہ برادری شمالی بنگال کی اصل باشندہ ہے۔ ممتا بنرجی نے انہیں عزت دیتے ہوئے دونوں زبانوں اور ان کی ثقافت کو اہمیت دی تھی۔ یہاں ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ جیسی کوئی بات نہیں تھی۔ اب اگر ان لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک زبان کو منظوری دے دی جائے تو ان کا مطالبہ پورا ہو جائے گا، تو ایسا ہی کیا جائے۔“

راجبنشی مہاسنگھ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کریں گے میٹنگ، آئین کے آٹھویں شیڈول میں زبان کو شامل کرنے کا مطالبہ لے کر اترکنیا پہنچے رہنما...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn