ٹاکی میونسپلٹی بدعنوانی معاملے کی تفتیش سی آئی ڈی کے حوالے، کلکتہ ہائی کورٹ کا حکم
شمالی 24 پرگنہ کی ٹاکی میونسپلٹی میں مالی خردبرد کے الزام میں کلکتہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ بدھ کو چیف جسٹس رویندر وی گھوگے اور جسٹس اوم نارائن رائے کی بنچ نے اس معاملے کی تفتیش سی آئی ڈی کے حوالے کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا، ”عوام کے ٹیکس کے پیسے کا اس طرح ضیاع نہیں کیا جا سکتا۔“
ٹاکی میونسپلٹی کے سابق کونسلر پردیوت داس نے اس مالی بدعنوانی کے الزام کو منظر عام پر لایا تھا۔ سابق کونسلر نے عدالت کو بتایا کہ اکاو¿نٹنٹ جنرل کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹاکی میونسپلٹی میں تقریباً 20 کروڑ روپے کی خردبرد ہوئی ہے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ میونسپلٹی کے اکاو¿نٹ سے رقم ذاتی اکاو¿نٹس میں منتقل کی گئی اور اس کے بعد ان اکاو¿نٹس سے رقم نکال لی گئی۔
صرف یہی نہیں، درخواست گزار نے غیر قانونی طور پر ملازمین کی تقرری کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ درخواست میں مذکورہ آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس مالی بدعنوانی میں میونسپلٹی کے چیئرمین سمیت کئی ملازمین بھی ملوث ہیں۔
بدھ کو چیف جسٹس کی بنچ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریاستی پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے کہا، ”یہ ایک سنگین جرم ہے۔“
سماعت کے اختتام پر عدالت نے حکم دیا کہ اس واقعے کی تفتیش اب سی آئی ڈی کرے گی۔ ریاستی پولیس کو فوری طور پر اس معاملے کی تفتیش سے متعلق تمام دستاویزات سی آئی ڈی کے حوالے کرنا ہوں گی۔ 10 دسمبر کو سی آئی ڈی کو تفتیش سے متعلق رپورٹ سربمہر لفافے میں عدالت میں جمع کرانی ہوگی۔ اسی دن معاملے کی اگلی سماعت ہوگی۔
ٹاکی میونسپلٹی بدعنوانی معاملے کی تفتیش سی آئی ڈی کے حوالے، کلکتہ ہائی کورٹ کا حکم...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments