جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر دہلی پولیس نے منگل (18 اگست) کو سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا۔ پولیس نے مظاہرین پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مجوزہ مارچ غیر قانونی تھا۔ پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران بھیڑ کے پرتشدد اور بے قابو ہونے کے بعد حالات کو قابو میں کرنے کے لیے مرحلہ وار طریقے سے طاقت کا استعمال کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے دستیاب اور قانونی طریقوں کے تحت صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے دوران بھیڑ نے کئی سطح کی بیریکیڈنگ توڑ کر پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ دہلی پولیس کے مطابق 20 جولائی کو جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقے میں 30 ہزار سے زیادہ مظاہرین موجود تھے۔ تقریباً 3 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی اتنی بڑی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے تقریباً 5 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس نے اپنے جواب میں بھیڑ کی تعداد اور سیکورٹی انتظامات کا بھی ذکر کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ حلف نامہ ان عرضیوں کے جواب میں داخل کیا گیا ہے، جن میں طلبہ مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس زیادتی کی عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق یہ جواب اس معاملے سے متعلق 4 عرضیوں میں مشترکہ جواب کے طور پر بھی استعمال کیا جائے گا۔ پولیس نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ مظاہرین کو قابو کرنے کی کارروائی اچانک نہیں کی گئی بلکہ حالات خراب ہونے کے بعد مرحلہ وار اقدامات کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بھیڑ کے بیریکیڈنگ پار کرنے اور پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے کی کوشش کے بعد لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے لیے طاقت کا استعمال ضروری ہوگیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق دہلی پولیس نے عدالت کے سامنے یہ بھی واضح کیا کہ اس کی جانب سے طاقت کا استعمال بھیڑ کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے نہیں بلکہ صورتحال کو قابو میں کرنے اور امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔ پولیس نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی کارروائی کو حالات کے مطابق اور قانونی دائرے میں قرار دیا ہے۔
پولیس نے کہا کہ 20 سے 26 جولائی کے درمیان مجموعی طور پر2873 ایسے افراد کی شناخت کی گئی جن کا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے۔ ان میں 92 افراد 10 سے زیادہ مقدمات میں ملوث تھے جبکہ 47 افراد ہسٹری شیٹر تھے۔ کچھ افراد پر قتل، عصمت دری، پاکسو اور این ڈی پی ایس ایکٹ جیسے سنگین مقدمات کے الزامات تھے۔ پولیس نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات ان 2873 افراد تک ہی محدود رہیں گی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
11 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments