Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

Bengal

فرہاد کے مقاصد پر سابق اسپیکر بمان بندوپادھیائے کے سوالات؛ اپوزیشن کو دبانے سے متعلق بیان کو جھوٹ قرار دے دیا

فرہاد کے مقاصد پر سابق اسپیکر بمان بندوپادھیائے کے سوالات؛ اپوزیشن کو دبانے سے متعلق بیان کو جھوٹ قرار دے دیا

باروئی پور: دونوں ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ریاست کے انتہائی طاقتور اور بااثر وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ دوسرے قانون ساز اسمبلی کے سابق اسپیکر تھے۔ آج بھی دونوں اگرچہ ایک ہی پارٹی میں ہیں، لیکن ان کے دھڑے الگ الگ ہیں۔ ودھان سبھا انتخابات میں ترنمول کی کراری ہار کے بعد فرہاد حکیم نے رتب برت خیمے میں شمولیت اختیار کر لی، جبکہ ودھان سبھا کے سابق اسپیکر بمان بندوپادھیائے کالی گھاٹ ترنمول کے ساتھ برقرار ہیں۔ اب بمان نے اپنے ایک وقت کے ساتھی فرہاد پر طنز کے تیر چلائے ہیں اور ان کے 'مقاصد' پر سوال اٹھائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ترنمول کے دورِ اقتدار میں ودھان سبھا کے مختلف اجلاسوں میں اپوزیشن کو نہ بلانے سے متعلق سابق وزیر کے بیان کو سابق اسپیکر نے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔


رتبرت خیمے میں شامل ہونے کے بعد سے ہی ریاست کی نئی حکومت کے مختلف فیصلوں پر فرہاد کی جانب سے مسلسل تعریفیں سننے کو مل رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری جس طرح مختلف انتظامی اجلاسوں میں اپوزیشن کو بھی مدعو کرتے ہیں، اس پر سابق وزیر برائے بلدیات و شہری ترقیات کافی مسرور اور پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ جمعہ کے روز نبانا (سیکرٹریٹ) میں وزیر اعلیٰ نے رتب برت اور فرہاد جیسے رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔ باہر نکل کر فرہاد نے شبھیندو کی کھلے دل سے تعریف کی اور ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا کہ پہلے اپوزیشن کو میٹنگوں میں نہیں بلایا جاتا تھا اور ودھان سبھا میں بولنے کا موقع بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ سابق وزیر کے اس بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے باروئی پور ویسٹ کے ترنمول رکن اسمبلی اور سابق اسپیکر بمان بندوپادھیائے نے شدید تنقید کی۔

اتوار کے روز اپنے اسمبلی حلقے میں موجود کالی گھاٹ ترنمول کے رکن اسمبلی بمان نے فرہاد کے اس بیان پر اپنی خاموشی توڑی۔ انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا: "ودھان سبھا کی بزنس ایڈوائزری میٹنگ میں اپوزیشن کو باقاعدہ دعوت دی جاتی تھی، لیکن وہ خود نہیں آتے تھے۔ فرہاد حکیم نے جو کہا کہ پہلے اپوزیشن کو نہیں بلایا جاتا تھا، یہ بات بالکل سچ نہیں ہے۔ ہماری اسمبلی میں جتنے بھی آل پارٹی اجلاس ہوتے تھے، ان تمام میٹنگوں میں اپوزیشن کو بلایا جاتا تھا اور خطوط بھیجے جاتے تھے، لیکن بدقسمتی سے اپوزیشن کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آتا تھا۔"

اس کے بعد انہوں نے مزید کہا: "میں نے ودھان سبھا میں اپوزیشن سے درخواست کی تھی کہ وہ اسمبلی کے وقار اور تقدس کو برقرار رکھیں اور اجلاسوں میں شرکت کریں۔ اس کے باوجود وہ نہیں آتے تھے۔ فرہاد حکیم نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کو بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا تھا—میں تو یہ سن کر حیران رہ گیا ہوں، کیونکہ وہ خود کابینہ کے ایک اہم رکن تھے۔ جب ان کے اپنے شعبے پر بحث ہوتی تھی، تو میں دو گھنٹے کے کل وقت میں سے 50 فیصد وقت اپوزیشن کو دیتا تھا، حالانکہ عددی تناسب کے لحاظ سے ان کا اتنا وقت نہیں بنتا تھا۔ اس کے باوجود میں نے ہمیشہ یہ یقینی بنایا کہ اپوزیشن کو بات کرنے کا پورا موقع ملے۔"

فرہاد پر طنز کرتے ہوئے بمان نے کہا: "مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کس مقصد کے تحت یہ بیان دیا ہے، لیکن میرے خیال میں انہوں نے جو بات کہی ہے، انہیں اس کی اصلاح کر لینی چاہیے۔" جب ان سے فرہاد کے اصل 'مقصد' کے بارے میں پوچھا گیا تو بمان نے جواب دیا: "یہ تو میں نہیں بتا سکتا۔"

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn