فٹبال بمقابلہ لفافہ: ممتا بنرجی کی پارٹی اور باغی گروپ کو نیا نام اور انتخابی نشان ملا
الیکشن کمیشن نے اروپ رائے کی قیادت والے گروپ کو ”ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس“ نام اور ”لفافہ“ انتخابی نشان الاٹ کیا ہے، جبکہ ممتا بنرجی کی قیادت والے دھڑے کو ”ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس“ نام اور ”فٹبال کھلاڑی“ کا نشان دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے جمعہ کو ترنمول کانگریس کے حریف دھڑوں کو الگ الگ نام اور انتخابی نشان الاٹ کر دیے، جس کے بعد ممتا بنرجی اور ار±پ رائے کی قیادت والے گروپ اکتوبر میں ہونے والے بنگال کے ضمنی انتخابات میں نئی شناخت کے ساتھ انتخاب لڑ سکیں گے۔ ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔
ار±پ رائے کی قیادت والے گروپ کو ”ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس“ نام اور ”لفافہ“ نشان الاٹ کیا گیا ہے، جبکہ ممتا بنرجی کے دھڑے کو ”ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس“ نام اور ”فٹبال کھلاڑی“ کا نشان دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق، دونوں گروپوں کو بنگال، میگھالیہ اور تریپورہ میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے طور پر تصور کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے جمعرات کے عبوری حکم کے بعد آیا ہے، جس میں پارٹی کے کنٹرول کو لے کر جاری اندرونی تنازع کے درمیان ”آل انڈیا ترنمول کانگریس“ نام اور ”پھول اور گھاس“ کے اصل انتخابی نشان کو منجمد کر دیا گیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ آئندہ ضمنی انتخابات، جن میں نندی گرام اور ریجینگر بھی شامل ہیں اور جو 6 اکتوبر کو ہونے ہیں، میں کوئی بھی دھڑا اصل پارٹی نام یا نشان استعمال نہیں کر سکے گا۔نندی گرام میں ضمنی انتخاب اس وقت ضروری ہوا جب وزیر اعلیٰ س±ویندو ادھیکاری نے یہ نشست چھوڑ کر بھوانی پور کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جہاں انہوں نے رواں سال کے اوائل میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔ریجینگر کی نشست عام جنتا انّویان پارٹی (AJUP) کے بانی ہمایوں کبیر کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی۔ انہوں نے نودا سے بھی کامیابی حاصل کی تھی۔تازہ حکم میں جاری انتخابات کے دوران داخل کیے گئے کاغذات نامزدگی سے متعلق معاملے کو بھی واضح کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ”ریجینگر، نندی گرام اور ناگاو¿ں میں دونوں دھڑوں کی جانب سے مجاز امیدواروں کو ان کے متعلقہ نئے الاٹ کیے گئے پارٹی نام اور انتخابی نشان کے تحت تصور کیا جائے گا، بشرطیکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 36 کے تحت قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ یہ الاٹمنٹ عارضی ہے اور اس وقت تک مو¿ثر رہے گی جب تک الیکشن کمیشن اپنا حتمی حکم جاری نہیں کرتا۔“یہ تنازع پارٹی کی تنظیمی اتھارٹی، نیشنل ورکنگ کمیٹی کی قانونی حیثیت اور عہدیداروں کی تقرری سے متعلق ایک دوسرے کے دعووں کے گرد گھومتا ہے۔ار±پ رائے کی قیادت والے دھڑے، جسے رتّابرتا بنرجی سے وابستہ گروپ کی حمایت حاصل ہے، نے موجودہ نیشنل ورکنگ کمیٹی کے برقرار رہنے پر سوال اٹھایا ہے۔ اس دھڑے کا کہنا ہے کہ نیشنل ورکنگ کمیٹی کی مدت 11 فروری 2025 کو ختم ہو چکی تھی۔
ممتا بنرجی کے دھڑے نے اس عمل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مخالف گروپ کے دعوے اور عہدیداروں کا انتخاب پارٹی کے آئین کے خلاف ہے۔ رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن سمیت اس دھڑے کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ پارٹی آئین میں ترمیم کے ذریعے نیشنل ورکنگ کمیٹی اور دیگر تنظیمی اداروں کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی تھی۔مخالف دھڑے نے ان ترامیم کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کیا ہے۔الیکشن کمیشن کے جمعرات کے حکم میں کہا گیا تھا کہ یہ طے کرنے کے لیے کہ تسلیم شدہ سیاسی جماعت کی نمائندگی کون سا گروپ کرتا ہے، الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر، 1968 کے پیراگراف 15 کے تحت حتمی فیصلہ ضروری ہوگا۔اس فیصلے تک دونوں دھڑوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی پسند کے تین تین نام اور آزاد انتخابی نشانات تجویز کریں۔
فٹبال بمقابلہ لفافہ: ممتا بنرجی کی پارٹی اور باغی گروپ کو نیا نام اور انتخابی نشان ملا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments