انکاوئنٹر میں مارے جانے والے پرہلاد کے اہل خانہ کو مالی مدد کےلئے ضلع پولیس ریاستی حکومت کو لکھے گی خط
انکاو¿نٹر میں ہلاک ہونے والے پرہلاد داس کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے ضلعی پولیس ریاستی حکومت کو خط لکھ رہی ہے۔ بدھ کے روز گائیگھاٹا میں پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے پرہلاد داس کے والدین نے مالی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔ جمعرات کو بنگاو¿ں کی پولیس سپرنٹنڈنٹ بدیشا کلیتا داس گپتا نے بتایا کہ پرہلاد کے اہل خانہ کو مالی امداد مل سکے، اس کے لیے پولیس کی جانب سے ریاستی حکومت سے درخواست کی جا رہی ہے۔کیا انکاو¿نٹر میں موت ہونے کی صورت میں کسی کو مالی امداد مل سکتی ہے؟ پولیس افسران کا دعویٰ ہے کہ اگر پولیس حراست کے دوران کسی کی موت ہو جائے تو قانون کے مطابق اس کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کرنے کا انتظام موجود ہے۔
پرہلاد کی والدہ ریکھا داس نے کہا، ”میں اپنے بیٹے کو واپس نہیں پا سکتی۔ یہ تکلیف مجھے ہمیشہ رہے گی۔ لیکن میری بیماری اور خاندان کے مختلف مسائل کی وجہ سے تقریباً 5 لاکھ روپے کا قرض ہو گیا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مالی معاوضہ مل جائے تو میں اپنا علاج کرا سکوں گی اور قرض بھی ادا کر سکوں گی۔“قابل ذکر ہے کہ شمالی 24 پرگنہ کے گائیگھاٹا میں ایک نابالغ لڑکی کو میلے سے بہانے سے لے جا کر اس کی عصمت دری اور قتل کرنے کا الزام سامنے آیا تھا۔ اس معاملے میں پرہلاد داس مرکزی ملزم تھا۔ واقعے کی ازسرنو تشکیل کے دوران پولیس کی فائرنگ میں پرہلاد ہلاک ہو گیا۔ پولیس پہلے ہی بتا چکی تھی کہ پرہلاد کی موت کے واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری سی آئی ڈی کو سونپی جائے گی۔ اس سلسلے میں ضلعی پولیس کی جانب سے سی آئی ڈی کو تحریری درخواست بھی دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، جمعرات کی شام تک سی آئی ڈی نے باضابطہ طور پر تحقیقات کی ذمہ داری نہیں سنبھالی تھی۔ امکان ہے کہ آج، جمعہ کو یہ ذمہ داری سنبھال لی جائے گی۔
دوسری جانب، پولیس نے ہلاک ہونے والے پرہلاد داس کا موبائل فون ضبط کیا تھا۔ اس موبائل فون کو دیکھ کر تفتیشی افسران حیران رہ گئے۔ موبائل میں بڑی تعداد میں فحش ویڈیوز موجود ہیں۔ تاہم پرہلاد کی والدہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے کے موبائل میں بھگوان اور دیوی دیوتاو¿ں کی تصاویر تھیں۔ وہ گیتا کا پاٹھ بھی کرتا تھا۔
ادھر مرشدآباد کے دھولیاں میں بی جے پی کارکن سوجیت منڈل کے قتل کے معاملے کی تحقیقات میں تیزی آئی ہے۔ جمعرات کی دوپہر فارنسک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی۔ شمشیر گنج کے پرانا ڈاک بنگلہ علاقے میں بھوٹو مارکیٹ کے اس کرائے کے کمرے سے کئی نمونے جمع کیے گئے، جہاں سوجیت کو رکھا گیا تھا۔
گزشتہ 28 اگست کو سوجیت کو اغوا کرکے اسی کمرے میں تیز دھار ہتھیار سے قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں اس کی لاش کو بوری میں بند کرکے فیڈر کینال میں پھینک دیا گیا تھا۔ فارنسک ٹیم نے جمعرات کو کمرے کے اندر اور آس پاس سے خون کے دھبوں سمیت مختلف نمونے جمع کیے اور تصاویر بھی لیں۔
27 اکتوبر کو قتل کے واقعے کی ازسرنو تشکیل کے دوران پولیس کی فائرنگ میں ساماو¿ل حق کی موت ہو گئی تھی۔ متوفی کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ حراست سے فرار ہونے کی کہانی مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند انکاو¿نٹر تھا۔
انکاوئنٹر میں مارے جانے والے پرہلاد کے اہل خانہ کو مالی مدد کےلئے ضلع پولیس ریاستی حکومت کو لکھے گی خط...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments