Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

انگوٹھی کے اندر سے پوری ساڑی باآسانی گزر جاتی ہے! ’پدم شری‘ ایوارڈ یافتہ جولاہے کی ململ کی امریکہ اور آسٹریلیا میں زبردست مانگ

Admin
By Admin
Oct 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

انگوٹھی کے اندر سے پوری ساڑی باآسانی گزر جاتی ہے! ’پدم شری‘ ایوارڈ یافتہ جولاہے کی ململ کی امریکہ اور آسٹریلیا میں زبردست مانگ
انگوٹھی کے اندر سے پوری ساڑی باآسانی گزر جاتی ہے! ’پدم شری‘ ایوارڈ یافتہ جولاہے کی ململ کی امریکہ اور آسٹریلیا میں زبردست مانگ — October 30, 2026
انگوٹھی کے اندر سے پوری ساڑی باآسانی گزر جاتی ہے! ’پدم شری‘ ایوارڈ یافتہ جولاہے کی ململ کی امریکہ اور آسٹریلیا میں زبردست مانگ
انگوٹھی کے اندر سے ساڑی باآسانی گزر جاتی ہے! اسے ماچس کی ڈبیا میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ یہی اصلی ململ کی ساڑی کی خاصیت ہے۔ کلنا کے پدم شری ایوارڈ یافتہ جولاہے جیوتش دیوناتھ اور ان کے بیٹے راجیو دیوناتھ کے ہاتھوں تیار ہونے والی ململ میں یہی جادو موجود ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک کے لوگ اس کے دلدادہ ہیں۔ امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں اس کی مانگ عروج پر ہے۔ جمعرات کو امریکہ اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 45 سیاحوں کے ایک گروپ نے کلنا کے باروئی پاڑہ میں واقع فنکار کے گھر سے متصل ململ کی فیکٹری کا دورہ کیا۔ انہوں نے ململ تیار کرنے کے طریقے اور اس کی روایت کے بارے میں جاننے کے ساتھ خریداری بھی کی۔ اس سے علاقے کی معیشت کو بھی تقویت مل رہی ہے۔

مندر نگر کے نام سے مشہور کلنا کے قدیم فنِ تعمیر کو دیکھنے کے لیے سال بھر غیر ملکی سیاح آتے رہتے ہیں۔ اب ان کے لیے پدم شری اعزاز یافتہ جولاہے جیوتش دیوناتھ اور راجیو دیوناتھ کی فیکٹری بھی ایک خاص کشش بن گئی ہے۔ 2011 میں راجیو دیوناتھ نے کلنا کے ٹیراکوٹا فنِ تعمیر، بھاگیرتھی ندی اور ململ تیار کرنے کے طریقے پر تقریباً 10 منٹ کی ایک سی ڈی تیار کی تھی۔ ’دی سٹی آف ٹیمپل کلنا‘ اور ’دی ورلڈ آف مسلن‘ نامی دو حصوں پر مشتمل اس سی ڈی کی تقریباً 500 کاپیاں انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجی تھیں۔ اس کے بعد 2017 سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہونے لگا۔

روس، امریکہ، انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، اٹلی اور اسپین سمیت مختلف ممالک سے آرڈر موصول ہو رہے ہیں۔ محض 6 گرام وزن کی یہ ساڑی 300 سے 600 کاو¿نٹ کے دھاگے سے تیار کی جاتی ہے۔ ایک ساڑی کی بنائی میں چار سے پانچ ماہ لگتے ہیں۔ دیوناتھ خاندان گزشتہ چھ نسلوں سے اس صنعت سے وابستہ ہے۔ جیوتش بابو کے والد کرشن موہن دیوناتھ بھی ایک ’ماسٹر ویور‘ تھے۔

راجیو بابو کا کہنا ہے کہ ہندوستانی ململ کی روایت 800 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ تاہم عالمی حدت کے باعث کپاس کے معیار میں کمی آنے سے اس صنعت کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ تشویش کا باعث ہے۔ تمام مشکلات کے باوجود وہ اپنی خاندانی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے پوری جانفشانی سے کوشش کر رہے ہیں۔

انگوٹھی کے اندر سے پوری ساڑی باآسانی گزر جاتی ہے! ’پدم شری‘ ایوارڈ یافتہ جولاہے کی ململ کی امریکہ اور آسٹریلیا میں زبردست مانگ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn