Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام اب 31 اکتوبر کو ہوگا

Admin
By Admin
Oct 30, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام اب 31 اکتوبر کو ہوگا
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام اب 31 اکتوبر کو ہوگا — October 30, 2026
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام اب 31 اکتوبر کو ہوگا
دارالحکومت دہلی میں مسلسل بارش کے باعث انڈیا بلاک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مجوزہ ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام ملتوی کرکے 31 اکتوبر کو مقرر کر دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ ان کے عہدے سے رخصت ہونے کی الٹی گنتی تیز ہو رہی ہے۔
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعہ کے روز انڈیا بلاک کے رہنماو¿ں کی میٹنگ کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اپوزیشن کی یہ مہم آئین اور ملک کی جمہوریت کے دفاع کے لیے متحدہ کوشش ہے۔
راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ، 10 راج جی مارگ کے باہر انڈیا بلاک کے رہنماو¿ں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، ”باہمی اتفاق سے ہم نے آج کے پروگرام کو بارش کی وجہ سے کل تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمیں لگا کہ بزرگ رہنماو¿ں کے لیے بارش میں بیٹھنا تکلیف دہ ہوگا۔ ہم کل بالکل اسی پروگرام کا انعقاد کریں گے۔“
راہل نے کہا کہ اپوزیشن یکم نومبر کو رام لیلا میدان تک ’چلو دلی‘ مارچ بھی نکالے گی اور ہر شخص کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی، خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے الزام لگایا، ”دونوں پروگرام وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن میں ان کی ٹیم کی جانب سے ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کرنے کے خلاف ہیں۔“راہل نے وزیر داخلہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ احتجاج میں شرکت کے لیے لوگوں کو دہلی پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہماری پارٹی کے لوگوں اور ہزاروں عام شہریوں کو روکا جا رہا ہے۔ اب آپ یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ہونے والے پروگرام کو دیکھیں، دیکھیں کہ کتنے لوگ آتے ہیں اور کتنے لوگوں کو روکا جاتا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ عوام میں شدید غصہ اور جذباتی تکلیف ہے، کیونکہ لاکھوں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے اور ان کا ووٹ چھینا جا رہا ہے تاکہ مسٹر اڈانی، مسٹر امبانی، مسٹر مودی، مسٹر شاہ اور مسٹر بھاگوت کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔“اپوزیشن کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے راہل نے کہا کہ یہ الگ الگ سیاسی جماعتوں کے علیحدہ احتجاج نہیں بلکہ ایک مشترکہ مظاہرہ ہے۔انہوں نے کہا، ”یہ کئی احتجاج نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی احتجاج ہے۔ پوری اپوزیشن یہاں کھڑی ہے۔ جو بھی احتجاج کرنا چاہتا ہے، ہر شخص کا یہاں آنے کا خیرمقدم ہے۔ ہم سب یہاں اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ ہم آئین کا دفاع کر رہے ہیں، ہندوستان کے تصور کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہم ووٹ کا دفاع کر رہے ہیں، جو تمام ہندوستانیوں کی آواز ہے۔“
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ مسلسل بارش کے باعث انڈیا بلاک کی جانب سے گیانیش کمار کے ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام 31 اکتوبر کو دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر منعقد ہوگا۔ اس پروگرام کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان تک ’چلو دلی‘ مارچ نکالا جائے گا۔
رمیش نے کہا، ”وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات پر ہندوستان کے آئین کو کھلے عام پامال اور سبوتاڑ کرنے والے گیانیش کمار کی رخصتی کی الٹی گنتی تیز ہو رہی ہے۔“ترنمول کانگریس کے رہنما ڈیرک او برائن، جو پریس کانفرنس میں راہل گاندھی کے ساتھ موجود تھے، نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اس مہم میں متحد ہے۔انہوں نے کہا، ”سول سوسائٹی، طلبہ، نوجوان، مزدور اور گھریلو خواتین، ہم سب اس لڑائی میں ایک ساتھ ہیں۔ آپ نے مسٹر گاندھی (راہل گاندھی) اور مسٹر اکھلیش یادو کے ایک نمائندے کی بات سنی۔ میں ممتا بنرجی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) کی نمائندگی کر رہا ہوں۔
شیو سینا، جے ایم ایم، آر ایس پی، سی پی آئی، آر جے ڈی، سی پی آئی (ایم ایل) اور دیگر جماعتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ سیاسی اتحاد بھی ہے۔ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور مل کر کامیابی حاصل کریں گے۔“سماج وادی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے الزام لگایا کہ عوام سمجھ چکے ہیں کہ بی جے پی کی انتخابی کامیابیاں جوڑ توڑ اور انتظامی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔یادو نے کہا، ”اتر پردیش ایم ایل سی انتخابات کے نتائج کے ذریعے اساتذہ اور گریجویٹ ووٹروں نے واضح کر دیا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کتنی پیچھے ہے۔“
احتجاج کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کے لیے منعقدہ میٹنگ میں انڈیا بلاک کے کئی رہنماو¿ں نے شرکت کی۔ ان میں ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال، ڈیرک او برائن، مہوا موئترا، اروند ساونت، جان بریٹاس، پی سندوش کمار، سنجے یادو اور این کے پریم چندرن شامل تھے۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے کہا کہ اپوزیشن کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنا اور چیف الیکشن کمشنر کو جواب دہ بنانا ہے۔انہوں نے کہا، ”اہم بات یہ ہے کہ ایس آئی آر کے عمل کو، جو ووٹوں میں غیر منصفانہ طریقے سے ہیرا پھیری کا عمل رہا ہے، بے نقاب کیا جائے۔ اس عمل کی سربراہی کرنے والے گیانیش کمار کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے، جنہیں مودی اور شاہ کی حمایت حاصل ہے۔ اسی معاملے پر تمام جماعتیں متحد ہیں اور ہم کل یہ پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے ہمیں آج کا پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔ اب یہ کل دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ہوگا۔“
رہنماو¿ں نے جمعرات کو بھی میٹنگ کی تھی، جس میں احتجاج کے طریق? کار کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر علامتی احتجاج کے طور پر یہ پروگرام کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقد کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار انڈیا بلاک کے اس ’عوامی مواخذے‘ کی صدارت کریں گی۔ توقع ہے کہ کھڑگے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ’مواخذے کی تحریک‘ پیش کریں گے، جبکہ تحریک منظور ہونے سے پہلے راہل گاندھی اختتامی خطاب کریں گے۔کھڑگے اور راہل کے علاوہ انڈیا بلاک کی ہر جماعت کا ایک نمائندہ بھی اس پروگرام سے خطاب کر سکتا ہے۔کانگریس نے منگل کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اسے چیف الیکشن کمشنر کے ’عوامی مواخذے‘ کے پروگرام کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی۔ پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ حکومت انتخابی نظام کو ’تباہ‘ کرنے کے بعد عام لوگوں کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ’عوامی مواخذے‘ کا پروگرام اب 31 اکتوبر کو ہوگا...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn