Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کیا واقعی بددھا دیب بھٹاچاریہ اور انیل بسواس بی اے میں فیل تھے؟

Admin
By Admin
Aug 27, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

Kolkata mein footpath par apne bachche ke liye doodh garam karne ko lekar surkhiyon mein aayi Sita Devi mangalwar ko West Bengal ke Chief Minister Suvendu Adhikari ke ‘Janata Darbar’ pahunchi.

کیا واقعی بددھا دیب بھٹاچاریہ اور انیل بسواس بی اے میں فیل تھے؟
کیا واقعی بددھا دیب بھٹاچاریہ اور انیل بسواس بی اے میں فیل تھے؟ — August 27, 2026
کیا واقعی بددھا دیب بھٹاچاریہ اور انیل بسواس بی اے میں فیل تھے؟
پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر بائیں بازو کے رہنماو¿ں کی تعلیمی قابلیت کو لے کر زبردست بحث جاری ہے۔ پہلے ایک بی جے پی رہنما نے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ بدماتمک بھٹاچاریہ گریجویشن پاس نہیں کر سکے۔ جیوتی باسو، ہری کرشن کونگار اور دیگر رہنماو¿ں کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مختلف معلومات پھیلائی گئیں۔ بائیں بازو کی طرف سے اس معلومات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ایک اور فہرست جاری کی گئی۔ آئیے آج جانتے ہیں بائیں بازو کے رہنماو¿ں کی تعلیمی تاریخ۔
سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو نے بیرسٹری پاس کی تھی۔ وہ کلکتہ کے سینٹ زیویئرس کالج کے طالب علم تھے۔ 1935میں پریزیڈنسی کالج سے انگریزی میں گریجویشن کیا۔ اس کے بعد وہ لندن تعلیم کے لیے چلے گئے۔ معلومات کے مطابق،1940 میں جیوتی باسو نے بیرسٹری پاس کی۔ اگرچہ انھوں نے کبھی وکالت نہیں کی۔
معلومات کے مطابق، سابق وزیر اعلیٰ بدماتمک بھٹاچاریہ کلکتہ کے شیلندر سرکار اسکول کے طالب علم تھے۔ اس کے بعد پریزیڈنسی یونیورسٹی سے بنگالی میں بی اے (آنرز) پاس کیا۔ سیاست میں آنے سے پہلے انھوں نے دم دم کے ایک اسکول (آدرش شنکھا ودیا مندر) میں تدریس بھی کی۔ممتاز بائیں بازو کے سیاستدان اور سی پی ایم رہنما انیل بسواس 1961میں کرشنا نگر گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے۔ وہاں سے پولیٹیکل سائنس میں آنرز کے ساتھ گریجویشن کیا۔ اس کے بعد سیاسی تحریک کی وجہ سے وہ جیل میں رہے۔ جیل میں ہی انھوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔
کلکتہ کے سابق میئر اور بائیں بازو کے رہنما بیکاش رنجن بھٹاچاریہ نے کلکتہ یونیورسٹی کے ماتحت آشوتوش کالج سے بی ایس سی (آنرز) پاس کیا۔ اس کے بعد کلکتہ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ فی الحال وہ بطور وکیل معروف ہیں۔
سی پی ایم رہنما اور پولیٹ بیورو کے رکن پرمو داس گپتا نے 1928میں باریسال ضلع اسکول سے پہلی ڈویڑن میں میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد برج موہن کالج میں انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ پھر سیاست میں آگئے۔ کلکتہ کارپوریشن ورکشاپ میں مکینیکل انجینئرنگ کے شعبے میں اپرنٹس رہے۔ہندوستان کی کمیونسٹ تحریک کے اہم ترین رہنماو¿ں میں سے ایک ہری کرشن کونگار تھے۔ انھوں نے میماری ودیا ساگر سمرتی ودیا مندر سے دسویں جماعت کا امتحان پہلی ڈویڑن میں پاس کیا۔ اس کے بعد وہ کلکتہ کے بنگ باسی کالج میں داخل ہوئے۔ سائنس شعبے میں داخلہ لیا تھا، لیکن سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے گریجویشن نہ کر سکے۔
ہری کرشن کونگار کے بھائی بنائے کرشن کونگار۔ بی جے پی کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بائیں بازو کے رہنما چوتھی جماعت پاس تھے۔ لیکن معلومات کے مطابق، ۱۹۴۸ میں وہ بردھمان راج کالج کے طالب علم تھے۔ تاہم، انھوں نے گریجویشن پاس کیا یا نہیں، یہ معلوم نہیں۔1930 میں سول نافرمانی تحریک میں شامل ہو کر سروج مکھرجی جیل گئے۔ رہائی کے بعد کلکتہ کے ودیا ساگر کالج میں داخلہ لیا1933 میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے رکن بنے، لیکن امتحان سے پہلے ہی گرفتار ہو گئے۔ جیل میں بیٹھ کر ہی امتحان دیا۔ گریجویشن کے بعد ماسٹرز بھی کیا۔ اس کے بعد قانون کی تعلیم شروع کی۔

کیا واقعی بددھا دیب بھٹاچاریہ اور انیل بسواس بی اے میں فیل تھے؟...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn